تحریر: طارق وسیم
برطانیہ اور فرانس نے یوکرین میں فوج تعینات کرنے کا اعلان کر دیا ہے ، کھلے سمندر میں وینز ویلا کے دو تیل بردار جہاز پکڑ لیے گئے جن میں سے ایک پر روسی پرچم اور عملہ تعینات تھا ۔ امریکہ نے برطانیہ میں اپنے جنگی جہاز کھڑے کر دیے ہیں ۔ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ پر قبضے کی باتیں کر رہے ہیں۔
سکینڈے نیویا کے ممالک گرین لینڈ کے حوالے سے امریکی صدر کے بیانات پر ناراض ہیں ،ڈینش وزیر اعظم نے باقاعدہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکہ کے جارحانہ عزائم کی مذمت کی ہے ۔ یہ ساری کہانی 3 جنوری 2026 سے شروع ہوتی ہے، جب امریکی ایئر فورس نے وینز ویلا کے دارالحکومت کراکس پر بمباری کی ۔ ڈیلٹا فورس کراکس کے صدارت محل میں اتر گئی ،صدر نکولس مادورو اور خاتون اول سیلیا فلورس کو اغوا کیاگیا اور نیو یارک پہنچا دیا گیاجہاں ان کی منشیات سمگلنگ کے الزام میں سکیورٹی میں عدالت پیش ہوئی۔
اس اقدام پراقوام متحدہ سمیت کچھ ممالک نے مذمت کی ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اچانک ایسا کیا ہو اکہ ڈونلڈ ٹرمپ جو جنگیں رکوا کر امن کا نوبل انعام لینا چاہتے تھے کمزور ہمسایوں پر یلغار کرنے لگے ۔ اس کی دو بڑی وجوہات ہیں ،اول ڈونلڈ ٹرمپ کے الیکشن منشور میں وینز ویلا کےخلاف ایکشن کا ذکر تھا ،دوسرے روس نے یوکرین کے اسی فیصد علاقے پر قبضہ کر لیا ہے ، ولادی میر پیوٹن کسی بھی روز کیف سے پریس کانفرنس کر سکتے ہیں ۔ افغانستان میں بد ترین شکست اور دنیا بھر میں روسی اسلحے کی مارکیٹ گرنے کے بعد روس کے لیے یہ بہت بڑی کامیابی ہے ، چین گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کا خواہاں ہیں۔اعداد وشمار کے مطابق اکیس لاکھ مربع میل پر پھیلے برف کے عظیم سمندر گرین لینڈ میں موجود گیس اور تیل کے وہ ذخائر چین کو مل جائیں گے، جو دنیا بھر کی 200 سال کی توانائی کی ضروریات پوری کر سکتے ہیں۔
گرین لینڈ میں موجود نایاب معدنیات جیسے لیتھیئم وغیرہ پر بھی اس کا قبضہ ہو جائے گا ،یوں چین بغیر تجارت ہی دنیا کا طاقتور اور امیر ترین ملک بن جائے گا ،جرمنی بالواسطہ طور پر اس مشن میں چین کا حمایتی ہے ،دوسرا بڑا فائدہوگا امریکہ تک رسائی حاصل ہو جائے گی ،گرین لینڈ یورپ اور امریکہ کے دمیان پل کا کردار ادا کرتا ہے۔ یورپ کے راستے امریکہ میں داخل ہونے کا واحد راستہ ہے ،اس لیے ڈونلڈ ٹرمپ اپنی اور امریکہ کی بقا کے لیے گرین لینڈ پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں ۔ڈونلڈ ٹرمپ کاکہنا ہےکہ امریکہ کے بغیر نیٹو ایک بےکار اور بے بس اتحاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں شک ہے کہ ضرورت پڑنے پر نیٹو امریکہ کے لیے کھڑا ہوگا یا نہیں، تاہم امریکہ ہمیشہ نیٹو کے ساتھ موجود رہے گا۔
امریکہ تک پہنچنے کادوسرا راستہ لاطینی امریکہ کے ممالک وینز ویلا ،کیوبا ،کولمبیا اور میکسیکو سے جاتا ہے، ان تمام ممالک بالخصوص وینز ویلا میں چین کا اثرو رسوخ حد سے زیادہ بڑھ چکا ہے ۔امریکہ وینزویلا سے نکولس مادورو اور سیلیا کو اغوا کر کے لے گیا ،رپورٹ کے مطابق متعدد افراد کوموت کے گھاٹ اتار اگیا ۔ ٹرمپ نے کیوبا ،کولمبیا ،اورمیکسیکوپر قبضے کی دھمکیاں بھی دی ہیں۔ روس الاسکا کے راستے امریکہ میں داخل ہو سکتا ہے ،چین کے پاس ایسے جنگی طیارے موجود ہیں جو فضا میں ری فیولنگ کرتے ہوئے بیجنگ سے نیو یارک تک باآسانی پرواز کر سکتے ہیں۔یورپ کو صرف یوکرین سے گیس سپلائی بند ہو گئی تو وہاں زندگی ناممکن ہو جائے گی ،اس صورتحال میں ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کی عوام اور اپنے یورپی اتحادیوں کے لیے جو کچھ کر رہے ہیں وہ واقعی نوبل انعام کے قابل ہیں ۔
امریکہ کی کل تاریخ 500 سال پرانی ہے اس کے حریف 10 ہزار سالہ تاریخ کے حامل ہیں ،جنگیں لڑتے جیتتے اور دنیا میں جھنڈے گاڑتے آئے ہیں ،اس لیے لگتا یہی ہے کہ ایران میں مظاہرے کراکے اسرائیل نواز حکومت بنوانے ،گرین لینڈ پر قبضے اور وینز ویلا کا تیل بیچنے کا امریکی پلان شاید چل نہ پائے ۔
نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

طارق وسیم پاکستان بالخصوص لاہور کی صحافت میں جانا پہچانا نام ہے دو دہائی قبل انگریزی جرنلزم سے کیریئر کا آغاز کرنے والے طارق وسیم نے براڈ کاسٹ جرنلزم میں بطور رپورٹر،اینکر اور نیوز ڈیپارٹمنٹ میں اپنی منفرد پہچان بنائی ہے۔