سرینگر : تحریک آزادیٔ کشمیر کے نوجوان رہنما برہان مظفر وانی کی شہادت کو آج نو برس مکمل ہو گئے۔اس موقع پر مقبوضہ کشمیر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جا رہی ہے جبکہ مختلف علاقوں میں بھارتی قابض افواج کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔
کشمیری عوام آج کے دن کو یومِ تجدیدِ عہد کے طور پر مناتے ہیں۔ ترال سے تعلق رکھنے والے برہان وانی کو 8 جولائی 2016 کو بھارتی فورسز نے ایک جھڑپ کے دوران شہید کر دیا تھا، تاہم ان کی شہادت کشمیری تحریکِ آزادی میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہوئی۔
برہان وانی کا تعلق ایک تعلیم یافتہ خاندان سے تھا، اور انہوں نے کم عمری میں ہی بھارتی مظالم کے خلاف آواز بلند کرنا شروع کی۔ ان کے بڑے بھائی کو 13 اپریل 2015 کو بھارتی فوج نے شہید کیا، جس کے بعد برہان نے مسلح جدوجہد کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کو بھی اپنی مزاحمت کا ذریعہ بنایا۔ انہوں نے کشمیری نوجوانوں میں شعور اجاگر کیا اور آزادی کی تحریک کا نیا چہرہ بن گئے۔
برہان وانی کی شہادت کے بعد وادی بھر میں شدید احتجاجی لہر اٹھی۔ ان کے جنازے میں دو لاکھ سے زائد افراد شریک ہوئے، جو کشمیری تاریخ کے سب سے بڑے جنازوں میں سے ایک شمار ہوتا ہے۔ اس کے بعد وادی میں 53 روزہ کرفیو نافذ کیا گیا، جس کے دوران بھارتی افواج کی کارروائیوں میں 100 سے زائد کشمیری نوجوان شہید کیے گئے۔
کشمیر کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں بسنے والے کشمیری آج برہان وانی کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ اس موقع پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور سیاسی قیادت کی جانب سے بھارتی مظالم کے خلاف آواز اٹھانے اور عالمی برادری سے کشمیر کے مسئلے پر سنجیدہ کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔