Get Alerts

ومبلڈن کی منفرد روایات: آل وائٹ لباس، رائل باکس اور سٹرابیری وِد کریم کی دلچسپ کہانی

ومبلڈن کی منفرد روایات: آل وائٹ لباس، رائل باکس اور سٹرابیری وِد کریم کی دلچسپ کہانی

لندن میں ومبلڈن 2026 اپنے عروج پر ہے، جہاں دنیا کے نامور ٹینس سٹارز گرینڈ سلیم ٹائٹل کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔ سنسنی خیز مقابلوں، اپ سیٹس اور شاندار کارکردگیوں کے درمیان شائقین کی نظریں 
صرف کورٹ پر ہونے والی ٹینس تک محدود نہیں، بلکہ اس ٹورنامنٹ کی ان منفرد روایات پر بھی مرکوز ہیں جنہوں نے ومبلڈن کو دنیا کا سب سے باوقار اور تاریخی گرینڈ سلیم بنا دیا ہے۔ سبز گھاس کے خوبصورت کورٹس، کھلاڑیوں کا لازمی سفید لباس، سینٹر کورٹ کا شاہی رائل باکس، اسٹرابیری وِد کریم کی روایت اور اشتہارات سے پاک ماحول، یہ سب عناصر ومبلڈن کو دیگر گرینڈ سلیم ٹورنامنٹس سے بالکل مختلف شناخت دیتے ہیں۔ 
آئیے جانتے ہیں وہ دلچسپ روایات جن کی وجہ سے ومبلڈن صرف ایک ٹینس ٹورنامنٹ نہیں بلکہ ایک تاریخی اور ثقافتی علامت بن چکا ہے۔
ومبلڈن صرف ایک گرینڈ سلیم ٹورنامنٹ نہیں بلکہ تقریباً ڈیڑھ صدی پرانی روایات، نظم و ضبط اور شاہانہ انداز کا ایسا امتزاج ہے جس نے اسے دنیا کے دیگر ٹینس مقابلوں سے منفرد بنا دیا ہے۔ہر سال لاکھوں شائقین صرف ٹینس ہی نہیں بلکہ ان روایات کو بھی قریب سے دیکھنے کے لیے لندن کا رخ کرتے ہیں، جو ومبلڈن کی اصل شناخت بن چکی ہیں۔
آل وائٹ ڈریس کوڈ: سفید لباس کی روایت کیوں؟
ومبلڈن کی سب سے مشہور روایت کھلاڑیوں کے لیے لازمی آل وائٹ (مکمل سفید) لباس ہے۔یہ روایت انیسویں صدی میں اس وقت شروع ہوئی جب کھیل کے دوران پسینے کے نشانات کو غیر مناسب سمجھا جاتا تھا۔اس دور میں خیال کیا جاتا تھا کہ رنگین کپڑوں پر پسینے کے دھبے زیادہ نمایاں ہوتے ہیں، جبکہ سفید لباس میں یہ کم دکھائی دیتے ہیں۔
اسی وجہ سے کھلاڑیوں کے لیے سفید لباس لازمی قرار دیا گیا، اور وقت گزرنے کے باوجود یہ روایت آج بھی برقرار ہے۔آج ومبلڈن کے منتظمین اس ڈریس کوڈ پر سختی سے عمل کراتے ہیں اور سفید رنگ کے علاوہ کسی نمایاں رنگ کی اجازت نہیں دی جاتی۔
آندرے اگاسی کی دلچسپ کہانی
امریکی ٹینس سٹار آندرے اگاسی نے ایک وقت میں صرف اسی سخت ڈریس کوڈ کی وجہ سے کئی برس تک ومبلڈن میں شرکت سے انکار کر دیا تھا۔اگرچہ بعد میں انہوں نے ٹورنامنٹ کھیلا اور کامیاب بھی رہے، لیکن یہ واقعہ آج بھی ومبلڈن کی سخت روایات کی ایک مشہور مثال سمجھا جاتا ہے۔


رائل باکس: جہاں صرف خصوصی مہمان بیٹھتے ہیں
ومبلڈن کے سینٹر کورٹ پر موجود رائل باکس دنیا کے سب سے خصوصی وی آئی پی حصوں میں شمار ہوتا ہے۔1922 سے یہ باکس شاہی خاندان، عالمی رہنماؤں، سفارتکاروں، فوجی حکام، کھیلوں کی شخصیات اور دیگر ممتاز مہمانوں کی میزبانی کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔
رائل باکس میں داخلہ کیسے ملتا ہے؟

رائل باکس میں عام ٹکٹ کے ذریعے داخلہ ممکن نہیں۔یہاں بیٹھنے کے لیے خصوصی دعوت نامہ درکار ہوتا ہے، جو آل انگلینڈ کلب کے چیئرمین کی جانب سے جاری کیا جاتا ہے۔مہمانوں کے لیے کلب ہاؤس میں خصوصی لنچ، چائے اور دیگر ریفریشمنٹس کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔رائل باکس کے مہمانوں کے لیے بھی سخت ڈریس کوڈ مقرر ہے۔
   مردوں کے لیے جیکٹ اور ٹائی لازمی ہوتی ہے۔
    خواتین سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ بڑی ٹوپیاں نہ پہنیں تاکہ پیچھے بیٹھے افراد کا منظر متاثر نہ ہو۔
سٹرابیری وِد کریم: ومبلڈن کی سب سے میٹھی روایت
اگر ومبلڈن کا کوئی کھانا دنیا بھر میں مشہور ہے تو وہ اسٹرابیری وِد کریم ہے۔
یہ روایت بھی وکٹورین دور سے چلی آ رہی ہے۔اس زمانے میں اسٹرابیری ایک قیمتی اور محدود مدت کے لیے دستیاب پھل سمجھا جاتا تھا، جبکہ ومبلڈن بھی جون اور جولائی میں منعقد ہوتا تھا، اس لیے دونوں کا امتزاج ایک روایت بن گیا۔
آج بھی ہزاروں شائقین ہر روز اسٹرابیری وِد کریم سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں ومبلڈن میں دیگر اشیاء کافی مہنگی ہوتی ہیں، وہیں منتظمین اسٹرابیری کی قیمت نسبتاً کم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ شائقین اس روایت کا حصہ بن سکیں۔
آج کے دور میں تقریباً ہر بڑے کھیل کے میدان میں اشتہارات نمایاں نظر آتے ہیں، لیکن ومبلڈن اس معاملے میں بھی منفرد ہے۔سینٹر کورٹ اور نمبر ون کورٹ پر بڑے اشتہاری بورڈز موجود نہیں ہوتے۔اگرچہ مختلف عالمی برانڈز ٹورنامنٹ کے اسپانسر ہوتے ہیں اور ان کے اسٹالز گراؤنڈ کے اطراف موجود ہوتے ہیں، لیکن کورٹ کے اندر اشتہارات نہ ہونے کی وجہ سے ماحول روایتی اور کلاسیکی محسوس ہوتا ہے۔


یہی وجہ ہے کہ ومبلڈن دیکھنے والے شائقین کو ایسا لگتا ہے جیسے وہ جدید دور کے بجائے ماضی کے کسی سنہری دور میں پہنچ گئے ہوں۔
پھولوں کی خوبصورتی بھی منصوبہ بندی کا حصہ
ومبلڈن کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی شاندار باغبانی ہے۔پورے کمپلیکس میں ہزاروں پھول اور پودے انتہائی منظم انداز میں لگائے جاتے ہیں۔خاص بات یہ ہے کہ زیادہ تر پھولوں کے رنگ ومبلڈن کے روایتی رنگوں یعنی جامنی، سبز اور سفید سے ہم آہنگ ہوتے ہیں۔ہر پودا، ہر باغیچہ اور ہر راستہ پہلے سے طے شدہ منصوبے کے مطابق سجایا جاتا ہے، جس سے پورا ماحول مزید دلکش نظر آتا ہے۔
دنیا میں چار گرینڈ سلیم ٹورنامنٹس کھیلے جاتے ہیں، لیکن ومبلڈن کی پہچان صرف ٹینس نہیں بلکہ اس کی روایات، نظم و ضبط، شاہی وقار اور تاریخ ہے۔چاہے سفید لباس ہو، رائل باکس، اسٹرابیری وِد کریم، اشتہارات سے پاک کورٹ یا خوبصورت باغات، ہر روایت اس ٹورنامنٹ کی الگ شناخت بن چکی ہے۔اور یہی ومبلڈن کو محض ایک کھیل نہیں بلکہ ایک ثقافتی اور تاریخی تقریب بنا دیتے ہیں۔ 

نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا  کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا  ضروری نہیں ہے 

ذیشان ظفر ایک سینئر سپورٹس جرنلسٹ اور براڈکاسٹ میڈیا پروفیشنل ہیں، جو گزشتہ 18 برس سے عالمی اور مقامی کھیلوں، بڑے ٹورنامنٹس  پر  رپورٹنگ  کر رہے ہیں

ٹیگز: