Get Alerts

انڈونیشیا کی واضح اکثریت داعش کےخلاف منفی رائے رکھتی ہے

 انڈونیشیا کی واضح اکثریت داعش کےخلاف منفی رائے رکھتی ہے

جکارتہ: ایک نئے سروے سے معلوم ہوا ہے انڈونیشیا کی ایک واضح اکثریت داعش کے گروپ کے خلاف منفی رائے رکھتی ہے، جب کہ آبادی کے کافی حصے کا کہنا ہے کہ یہ ملک کے لیے خطرے کا باعث نہیں ہے۔

رائے عامہ کے ایک نئے جائزے میں کہاگیاکہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے گنجان آباد مسلمان ملک، انڈونیشیا میں داعش مخالف جذبات بڑھ رہے ہیں۔ نئے سروے سے پتا چلتا ہے کہ انڈونیشیا کی ایک واضح اکثریت داعش کے گروپ کے خلاف منفی رائے رکھتی ہے، جب کہ آبادی کے کافی حصے کا کہنا ہے کہ یہ ملک کے لیے خطرے کا باعث نہیں ہے۔

بتایا گیا ہے کہ 66 فی صد سے زائد، یعنی رائے شماری میں شامل 1350 بالغ آبادی نے داعش کا نام سن رکھا ہے۔ داعش کا علم رکھنے والے 66.4 فی صد میں سے 90 فی صد دولت اسلامیہ کو ملک کے لیے ایک خطرہ گردانتے ہیں جب کہ 92.9 فی صد انڈونیشیا میں اس گروپ پر پابندی عائد کیے جانے کے حق میں ہیں۔

یہ جائزہ 14 سے 20 مئی کے دوران جکارتہ میں قائم ٴسیف المجانی تحقیقی اور مشاورتیٴ ادارے نے کرایا ہے۔دو برس قبل، ٴپیو رسرچ سینٹرٴ نے ایک سروے کرایا تھا جس میں انڈونیشیا کے 79 فی صد لوگوں نے داعش کے خلاف رائے دی تھی، جب کہ صرف چار فی صد نے اس کی حمایت کی تھی۔

یہ سروے 11 ملکوں میں کیا گیا تھا، جہاں خاصی تعداد میں مسلمان آباد ہیں، جن میں مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے کئی ملک شامل ہیں۔تاہم، نئے سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ 10 فی صد لوگ جنھوں نے داعش کا نام سن رکھا ہے، داعش کو انڈونیشیا کے لیے خطرے کا باعث نہیں سمجھتے، جب کہ متعدد نے گروپ کے بارے میں کبھی نہیں سنا۔

اس حقیقت کے باوجود کہ 25 کروڑ اور 80 لاکھ کے اس ملک میں داعش کے بڑھنے کی نشانیاں پائی جاتی ہیں، انڈونیشیا میں تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ملک میں گروپ کا کوئی مستقبل نہیں۔