اسلام آباد/نیو دہلی: پہلگام حملے کے بعد بھارت کی جانب سے پاکستان پر لگائے گئے الزامات نہ صرف بین الاقوامی سطح پر شکوک و شبہات کا شکار بن چکے ہیں، بلکہ خود بھارت کے اندر بھی ان بیانات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
بھارتی رہنما ششی تھرور سمیت حکومتی شخصیات کے بیانات اور شواہد کی غیرموجودگی نے اس واقعے کو ایک ممکنہ فالس فلیگ آپریشن کے طور پر مشکوک بنا دیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے بار بار شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی پیشکش کے باوجود، بھارت کی خاموشی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا، بھارتی عوام، سابق فوجی اہلکاروں اور اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے بھی حملے کے وقت سکیورٹی ہٹانے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جس سے بھارت کا بیانیہ مزید کمزور ہو گیا ہے۔