اسلام آباد: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھارت کے پاکستان پر 15 مقامات پر حملے کے دعوے کو من گھڑت اور جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پاکستان حملہ کرے گا تو وہ دنیا خود دیکھے گی، بھارتی میڈیا کے بتانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ہمراہ پریس بریفنگ میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بتایا کہ بھارت کی جانب سے آدم پور سے چار میزائل فائر کیے گئے، جن میں سے ایک بھارت کے شہر امرتسر میں جا گرا، جب کہ دو میزائل پاکستانی حدود میں داخل ہوئے، جن میں سے ایک کو ڈنگہ کے قریب مار گرایا گیا اور اس کا فرانزک تجزیہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مشرقی سرحد پر مکمل نگرانی جاری ہے، بھارت کا دعویٰ کہ پاکستان نے 15 مقامات پر حملہ کیا ہے، سفید جھوٹ ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو میزائل کے ڈیجیٹل نشانات موجود ہوتے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے سوال اٹھایا کہ اگر بھارت واقعی میزائل حملے سے بچا ہوتا تو اپنے 5 طیارے کیسے گنوا بیٹھتا؟ بھارت کو داخلی سیاسی فائدے کے لیے ڈرامے بازی بند کرنی چاہیے۔
انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ جب پاکستان حملہ کرے گا تو وہ صرف دکھائی ہی نہیں دے گا بلکہ اس کی گونج پوری دنیا سنے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ہر قسم کی دراندازی کا مؤثر جواب دینے کے لیے تیار ہے اور افواج پاکستان ہمہ وقت چوکنا ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستانی فوج کو عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے، قوم ہمیشہ اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی رہی ہے اور ہر بار حق کی فتح ہوئی ہے، اس بار بھی فتح حق ہی کی ہوگی۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے مطابق بھارت نے نہ صرف پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی بلکہ لاہور میں فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی، جو ایک بڑا سکیورٹی خطرہ ہے۔اسحاق ڈار نے بھارت کے اس دعوے کو رد کیا جس میں کہا گیا کہ پاکستان نے بھارت کے اندر حملے کیے۔ انہوں نے ان الزامات کو جھوٹ اور بھارت کی جانب سے اپنی خفت مٹانے کی کوشش قرار دیا۔
ان کے مطابق، پاکستان نے نہایت احتیاط سے کام لیا اور بھارتی پنجاب میں کسی شہری علاقے کو نشانہ نہیں بنایا۔ اس کا مقصد ایک ذمہ دار ملک کے طور پر اپنی پوزیشن واضح کرنا ہے۔اسحاق ڈار نے دعویٰ کیا کہ پاک فضائیہ نے 5 بھارتی جنگی طیارے مار گرائے اور 75 سے 80 طیاروں کا کامیابی سے مقابلہ کیا۔ ان کامزید کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک اہم آبی معاہدہ ہے، اور اس کی معطلی کو "اعلان جنگ" قرار دینا واضح کرتا ہے کہ پاکستان اس مسئلے کو کتنی سنجیدگی سے لے رہا ہے۔