Get Alerts

27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ منظر عام پر آگیا

27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ منظر عام پر آگیا

اسلام آباد: وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے کی منظوری دے دی گئی۔ وزیرِ قانون و انصاف نے کابینہ کی منظوری کے بعد میڈیا کو ترمیم کے خدوخال پر بریفنگ دی۔

وزیرِاعظم نے کہا کہ ترمیم کا مقصد وفاق اور صوبوں کے تعلقات کو مضبوط بنانا اور ملک کے وسیع مفاد میں اصلاحات لانا ہے۔ انہوں نے وزارت قانون و انصاف، اٹارنی جنرل اور ان کی ٹیم کی کوششوں کو سراہا۔

ترمیم کے مسودے کے مطابق، سپریم کورٹ سے علیحدہ وفاقی آئینی عدالت قائم کی جائے گی، جس کا صدر مقام اسلام آباد ہوگا۔ عدالت کے چیف جسٹس کی مدت ملازمت تین سال مقرر کی گئی ہے جبکہ ججز کی ریٹائرمنٹ عمر 68 سال ہوگی۔
وفاقی آئینی عدالت کے اختیارات میں وفاق اور صوبوں کے درمیان آئینی تنازعات کی سماعت، آئینی تشریح اور بنیادی حقوق سے متعلق مقدمات شامل ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 184 کو ختم کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔

آرٹیکل 175 میں ترمیم کے تحت سپریم کورٹ کے آئینی اختیارات محدود کیے جائیں گے اور کچھ اختیارات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل ہوں گے۔
آرٹیکل 175A میں ججز کی تقرری کے لیے نیا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے، جس میں جوڈیشل کمیشن میں دونوں عدالتوں کے چیف جسٹس شامل ہوں گے۔
آرٹیکل 189 کے تحت آئینی عدالت کے فیصلے تمام عدالتوں پر لازم ہوں گے۔ سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل نو میں دونوں عدالتوں کے چیف جسٹس ارکان ہوں گے۔

آرٹیکل 243 میں ترامیم کے تحت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کیا جائے گا جبکہ آرمی چیف کو چیف آف ڈیفنس فورسز کا اضافی عہدہ دیا جائے گا۔ فیلڈ مارشل کو قومی ہیرو کا درجہ اور تاحیات مراعات دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
وزیرِاعظم کو سات مشیروں کی تقرری کا اختیار دیا جائے گا اور وزرائے اعلیٰ کے مشیروں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے۔

آرٹیکل 206 میں کہا گیا ہے کہ عدالت میں تقرری سے انکار کرنے والے جج کو ریٹائر تصور کیا جائے گا۔

سپریم جوڈیشل کونسل کے نئے قواعد 60 دن میں وضع کیے جائیں گے۔آرٹیکل 175B سے 175L میں وفاقی آئینی عدالت کے اختیارات اور طریقہ کار متعین کیے گئے ہیں۔سپریم کورٹ سے متعلق اصطلاحات میں ترامیم اور کچھ آرٹیکلز کی حذف تجویز کی گئی ہے۔

کابینہ کی منظوری کے بعد ترمیم کا مسودہ پارلیمان میں پیش کیا جائے گا۔

ٹیگز: