واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے زوردار دھماکہ کرتے ہوئے طالبان سے امن مذاکرات کو منسوخ کردیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان دوحہ، قطر میں ہونے والے مذاکرات کے نویں دور سے وابستہ تمام امیدیں چند گھنٹے قبل اس وقت دم توڑ گئیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ٹوئٹر‘ پر جاری کردہ اپنے پیغام میں اعلان کردیا ہے کہ مذاکرات کا جاری عمل منسوخ کردیا گیا ہے۔
....an attack in Kabul that killed one of our great great soldiers, and 11 other people. I immediately cancelled the meeting and called off peace negotiations. What kind of people would kill so many in order to seemingly strengthen their bargaining position? They didn’t, they....
— Donald J. Trump (@realDonaldTrump) September 7, 2019
عالمی خبررساں ایجنسیوں کے مطابق امریکی صدر کی آج کیمپ ڈیوڈ میں طالبان رہنماؤں اور افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہونا تھیں جو منسوخ کردی گئی ہیں۔
افغان صدر اشرف غنی کے حوالے سے جمعہ کے دن افغان نشریاتی ادارے طلوع نیوز نے اطلاع دی تھی کہ انہوں نے اپنا دورہ واشنگٹن ملتوی کردیا ہے۔امریکی صدر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری کردہ اپنے پیغام میں کہا ہے کہ انہوں نے کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والی ملاقاتیں منسوخ کردی ہیں۔ اس کی وجہ انہوں نے کابل میں ہونے والے حملوں کو قراردیا ہے۔
....only made it worse! If they cannot agree to a ceasefire during these very important peace talks, and would even kill 12 innocent people, then they probably don’t have the power to negotiate a meaningful agreement anyway. How many more decades are they willing to fight?
— Donald J. Trump (@realDonaldTrump) September 7, 2019
صدر ٹرمپ نے سماجی رابطے کی سائٹ پر جاری کردہ پیغام میں کہا ہے کہ وہ طے شدہ ملاقاتوں کے لیے ہفتے کی شب واشنگٹن پہنچ رہے تھے۔انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ مذاکرات کی معطلی کا فیصلہ طالبان کی جانب سے کابل حملے کے بعد کیا گیا جس میں ایک امریکی فوجی سمیت 12 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ طالبان کی سے خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ غیرملکی نشریاتی ادارے کے مطابق سامنے آیا ہے۔
افغان طالبان پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے صدرٹرمپ نے کہا کہ طالبان جنگ بندی نہیں کرسکتے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ ان میں با مقصد بات چیت اور معاہدہ کرنے کی اہلیت نہیں ہے اور وہ سودے بازی میں اپنی پوزیشن بہتر بنانا چاہتے ہیں۔
امریکہ کے صدر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر دریافت کیا کہ آخر طالبان مزید کتنے عشرے تک لڑنا چاہتے ہیں؟دوحہ، قطر میں گزشتہ ایک سال سے جاری مذاکراتی عمل کے حوالے سے گزشتہ دنوں نویں دور کے اختتام پر یہ امید بندھی تھی کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے طے پانے والے معاہدے کی توثیق کے بعد امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان امن معاہدے پر دستخط ہوجائیں گے۔