نئی دہلی : بھارت کی مشرقی ریاست اوڈیشہ کے شہر بھدرک میں ہندوو¿ں اور مسلمانوں کے درمیان پر تشدد واقعات کے بعد کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پر ہندووںدیوی دیوتا رام اور سیتا کے بارے میں مبینہ طور پر قابل اعتراض تبصرے کے بعد بھدرک میں جمعرات سے شروع ہونے والا فرقہ وارانہ تشدد اب بھی جاری ہے۔
شہر میں کرفیو نافذ ہے اور سکول کالجوں کو بند کر دیا گیا ہے۔بھدرک کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس دلیپ کمار داس نے بتایا ہے کہ پولیس نے پر تشدد واقعات میں شامل 35 افراد کو گرفتار کیا ہے اور صورت حال کو کنٹرول کرنے کی کوشش جاری ہے۔
تشدد اور آتشزدگی میں ابھی تک کسی کی جان نہیں گئی ہے تاہم جگہ جگہ مارپیٹ اور املاک کو نذر آتش کرنے کے واقعات جاری ہیں۔ شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے 35 پلاٹون پولیس فورسز تعینات کی گئی ہیں۔حساس علاقوں میں مسلح پولیس کے دستے گشت لگا رہے ہیں ۔ریاست کے ڈائریکٹر جنرل کے بی سنگھ کا کہنا ہے کہ حالات قابو میں ہیں۔