Get Alerts

ٹرمپ کے دوسرے دور میں پاکستان سفارتی اعتبار سے مضبوط پوزیشن پر فائز

 ٹرمپ کے دوسرے دور میں پاکستان سفارتی اعتبار سے مضبوط پوزیشن پر فائز

واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت میں پاکستان امریکہ سے تعلقات کے حوالے سے ایک نمایاں اور کامیاب ملک کے طور پر سامنے آیا ہے۔ سفارتی تناظر میں اگر دیکھا جائے تو پاکستان نے اس عرصے میں نہ صرف موثر سفارتی روابط قائم کیے بلکہ کئی اہم شعبوں میں واشنگٹن کا اعتماد بھی حاصل کیا۔
پاکستان نے ٹرمپ کے دوسرے دور میں وہ سفارتی جگہ حاصل کر لی  ہےجس کی مثال حالیہ برسوں میں کم ملتی ہے۔ اعتماد، رسائی اور سرمایہ کاری،تینوں محاذوں پر پیش رفت نے اسلام آباد کو واشنگٹن میں دوبارہ مرکزی سطح پر لا کھڑا کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان ذاتی کیمسٹری بھی مضبوط رہی اور ٹرمپ نے دونوں رہنماؤں کو متعدد بار وائٹ ہاؤس مدعو کیا۔پاکستان نے کابل دھماکے کے ماسٹر مائنڈ کی گرفتاری میں تعاون سمیت کئی مواقع پر بروقت مدد فراہم کی جس سے اعتماد سازی مزید مستحکم ہوئی۔
اہم پیش رفت کرٹیکل منرلز کے شعبے میں ہوئی جہاں ایف ڈبلیو او اور ایک امریکی کمپنی کے درمیان 500 ملین ڈالر کا بڑا معاہدہ طے پایا۔ اسی طرح کرپٹو شعبے میں پاکستان کرپٹو کونسل اور ورلڈ لبرٹی فنانشل کے درمیان شراکت داری میں بھی اضافہ ہوا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کی بھارت پالیسی میں سختی ٹیرف، روسی تیل کی خریداری اور پاک بھارت کشیدگی جیسے عوامل کے سبب—پاکستان کے لیے ایک سفارتی موقع بن کر سامنے آئی۔
مئی کی جنگ بندی میں پاکستان نے ٹرمپ کے کردار کو سراہا جبکہ بھارت نے اس دعوے کو قبول نہیں کیا۔پاک ،امریکہ گرمجوشی کے باعث واشنگٹن کا بیانیہ اسلام آباد کے لیے مجموعی طور پر نرم محسوس ہو رہا ہے۔پاکستان کی خواہش ہے کہ مستقبل میں امریکہ کے ساتھ تعلقات کسی تیسرے ملک کے تناظر میں مشروط نہ ہوں۔

ٹیگز: