لاہور عالمی کرکٹ کی بساط پر اس وقت ایک ایسی جنگ چھڑ چکی ہے جس نے کھیل کے ایوانوں کوہلا کررکھ دیا ہے۔ آئی سی سی کے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ اور بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کے وفد کی لاہور میں پی سی بی چیئرمین محسن نقوی سے ملاقات محض ایک روایتی بیٹھک نہیں، بلکہ 250 ملین ڈالر کا ریونیو اور ورلڈ کپ کی ساکھ بچانے کی آخری کوشش ہے۔پاکستان نے بنگلہ دیش کے سکیورٹی خدشات کی حمایت میں 15 فروری کو بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا جو اعلان کیا ہے، اس نے آئی سی سی کو دیوار سے لگا دیا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق اگر پاکستان میدان میں نہیں اترتا تو نشریاتی حقوق اور سپانسرز کی مد میں ہونے والا کروڑوں ڈالر کا نقصان آئی سی سی کو دیوالیہ کر سکتا ہے۔
اس حوالے سے اکستان کا موقف دوٹوک ہے۔ اگر بھارت سکیورٹی کا بہانہ بنا کر چیمپئنز ٹرافی کے لیے پاکستان نہیں آ سکتا، تو بنگلہ دیش کو بھارت میں کھیلنے پر مجبور کرنا کھلا تضاد ہے۔نیویارک ٹائمز کی رپورٹ اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہے کہ بھارت نے آئی سی سی کو یرغمال بنا رکھا ہے، لیکن پاکستان اور بنگلہ دیش کے حالیہ گٹھ جوڑ نے بھارتی بورڈ (BCCI) کو دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے۔
بھارتی بورڈ کے نائب صدرراجیو شکلا کا یہ کہنا کہ "آئی سی سی جو بھی فیصلہ کرے گی ہمیں قبول ہے"، دراصل ان کی اس بوکھلاہٹ کو ظاہر کرتا ہے کہ اب 'مالی طاقت' کا جادو نہیں چل رہا۔ لاہور میں آئی سی سی وفد کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کے بغیر عالمی کرکٹ کا پہیہ نہیں چل سکتا۔
لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں ہونے والی اس ملاقات کے بعد اب گیند حکومتِ پاکستان کے کورٹ میں ہے۔ اگر آئی سی سی نے بنگلہ دیش کے مطالبات مان لیے یا پاکستان کو مستقبل کے ایونٹس میں بڑی رعایتیں دیں، تو یہ پاکستان کی تاریخی فتح ہوگی۔
اگر آئی سی سی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہا، تو 15 فروری کو کرکٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا مالی بائیکاٹ ہوگا، جس کا خمیازہ بھارتی معیشت اور آئی سی سی دونوں کو بھگتنا پڑے گا۔ آئی سی سی اس وقت 'منت سماجت' اور 'دھمکیوں' کے درمیان معلق ہے۔ 15 فروری کا میچ اب محض ایک کھیل نہیں رہا، بلکہ یہ بھارتی انا کے مقابلے میں پاکستان کے جرات مندانہ اور اصولی موقف کا امتحان بن چکا ہے۔