نئی دہلی : بھارتی حکومت نے اپنی سیاسی ساکھ کو بہتر دکھانے اور عوامی تاثر سنوارنے کے لیے 2025-26 کے بجٹ میں 12 ارب روپے سے زائد صرف سرکاری تشہیر کے لیے مختص کیے ہیں۔ پچھلے مالی سال میں بھی 1228 کروڑ روپے اس مقصد پر خرچ کیے گئے۔
رپورٹس کے مطابق، مودی سرکار میڈیا کی آزادی محدود کرنے اور تنقید کو دبانے کے لیے نہ صرف آزاد میڈیا پر قدغنیں لگا رہی ہے بلکہ بھارتی نیوز چینلز پر کارپوریٹ اداروں کے ذریعے دباؤ بھی بڑھا رہی ہے۔
ریلائنس انڈسٹریز اور اڈانی گروپ جیسے بڑے کاروباری اداروں نے بھارتی میڈیا کے اہم ادارے، بشمول این ڈی ٹی وی کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ اڈانی گروپ کا این ڈی ٹی وی پر کنٹرول اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت پر تنقید برداشت نہیں کی جا رہی۔
مودی سرکار سے قریبی تعلق رکھنے والے ان کاروباری گروپوں کے زیرِ اثر میڈیا اب کارپوریٹ اور حکومتی مفادات کی زبان بول رہا ہے۔ خبروں کی رپورٹنگ پر اشتہارات اور کاروباری دباؤ غالب ہے، جس سے آزاد صحافت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
حکومت کا بھاری اشتہاری بجٹ دراصل اس بات کا اشارہ ہے کہ گودی میڈیا کے ذریعے پروپیگنڈے کو مزید فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ اصل مسائل سے عوام کی توجہ ہٹائی جا سکے۔