Get Alerts

2سال میں ترسیلات زر میں 10ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے،وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

 2سال میں ترسیلات زر میں 10ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے،وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اقتصادی سروے 2024-25 پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت بحران کے بعد بہتری کی جانب گامزن ہے، مہنگائی پر قابو پا لیا گیا ہے جبکہ جی ڈی پی میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ 2.7 فیصد رہی، جبکہ مہنگائی کی شرح 29 فیصد سے کم ہو کر 4.6 فیصد پر آ گئی ہے، جو معاشی بہتری کا واضح ثبوت ہے۔ پالیسی ریٹ بھی 22 فیصد سے کم ہو کر 11 فیصد پر آ گیا ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جبکہ ٹیکس وصولیوں میں ٹیکنالوجی کے استعمال اور اصلاحات کی بدولت بہتری آئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب گزشتہ پانچ سالوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ 24 سرکاری اداروں کو نجکاری کے لیے مختص کر دیا گیا ہے، جبکہ مختلف وزارتوں اور محکموں کی رائٹ سائزنگ کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت 43 وزارتوں اور 400 سے زائد منسلک اداروں کو مرحلہ وار ضم کر رہی ہے تاکہ اخراجات میں کمی اور کارکردگی میں اضافہ ہو۔

اقتصادی سروے کے مطابق زرعی شعبے کی ترقی کی شرح محض 0.6 فیصد رہی، جبکہ اہم فصلوں کی پیداوار میں مجموعی طور پر 13.49 فیصد کمی دیکھی گئی۔ اس کے برعکس صنعتی شعبے میں 6 فیصد اور خدمات کے شعبے میں 2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ برآمدات 6.8 فیصد اضافے کے ساتھ 27.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ ترسیلات زر رواں سال 38 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانی روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے ملک میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت معاشی ڈھانچے میں بہتری کے لیے اقدامات کیے گئے، جس سے عالمی اعتماد بحال ہوا ہے۔ انہوں نے نگران حکومت اور وزیراعظم شہباز شریف کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اچھے فیصلوں کا تسلسل ہی استحکام کا ضامن ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ معیشت کا مجموعی حجم 372 ارب ڈالر سے بڑھ کر 411 ارب ڈالر ہو گیا ہے، جبکہ فی کس آمدنی 1,824 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاسکو میں کرپشن کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ بجلی کے شعبے میں ریکارڈ ریکوری ہوئی ہے، اور گردشی قرضے کے حل کے لیے بینکوں سے معاہدہ کیا گیا ہے۔

ٹیگز: