Get Alerts

سلامتی کونسل اجلاس ،پاکستان کا افغان طالبان سے دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کا مطالبہ

سلامتی کونسل اجلاس ،پاکستان کا افغان طالبان سے دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کا مطالبہ

نیویارک : اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے افغانستان سے سرحد پار جاری دہشت گردی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان سے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ افغان سرزمین اب بھی پاکستان کے خلاف محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔
 دہشت گرد گروہوں کو جدید ہتھیاروں اور ڈرونز تک رسائی حاصل ہے، جن میں غیر ملکی افواج کا چھوڑا ہوا وہ اسلحہ بھی شامل ہے جو انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کے دوران 290 سے زائد بار ضبط کیا جا چکا ہے۔ سال 2025 کے دوران پاکستان میں 5300 سے زائد دہشت گرد حملے ہوئے جن میں 1200 سے زائد افراد جان سے گئے۔ جبکہ حال ہی میں خیبر پختونخوا کی پولیس چوکی پر ہونے والے حملے (جس میں 15 اہلکار شہید ہوئے) کی منصوبہ بندی بھی افغانستان میں کی گئی تھی۔
ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور داعش خراسان جیسے گروہ افغان سرزمین سے متحرک ہیں، اور طالبان کا ان کی مذمت سے گریز کرنا ممکنہ ملی بھگت کی نشاندہی کرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے افسوس کا اظہار کیا کہ اقتدار میں آنے کے نصف دہائی بعد بھی طالبان ایک ذمہ دار حکومت کے طور پر اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ پائیدار استحکام حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

ٹیگز: