کراچی : سٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے ملک کی معاشی صورتحال اور مہنگائی کے تناسب کو مدنظر رکھتے ہوئے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) نے شرحِ سود کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
شرحِ سود کے تعین کے لیے مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اہم اجلاس گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملک کے مجموعی معاشی اشاریوں، مالیاتی خسارے، اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ملکی معیشت پر اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق شرحِ سود میں تبدیلی نہ کرنے کے پیچھے درج ذیل عوامل شامل ہیں۔ سٹیٹ بینک کا ماننا ہے کہ موجودہ شرحِ سود مہنگائی کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے موزوں ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پیدا ہونے والے ممکنہ معاشی خطرات کے پیشِ نظر احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں۔شرحِ سود کو مستحکم رکھ کر کاروباری برادری کو تسلسل فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ صنعتی پہیہ چلتا رہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ شرحِ سود میں کمی کی توقع کی جا رہی تھی، تاہم عالمی حالات اور توانائی کے بحران کو دیکھتے ہوئے اسٹیٹ بینک کا اسے برقرار رکھنے کا فیصلہ "محتاط اور حقیقت پسندانہ" ہے۔ اس فیصلے سے بینکیبل قرضوں اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں استحکام رہنے کی امید ہے۔