Get Alerts

جسم میں پانی کی کمی سنگین بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے: ماہرین کا انتباہ

جسم میں پانی کی کمی سنگین بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے: ماہرین کا انتباہ

واشنگٹن :  ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ زیادہ تر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ مناسب مقدار میں پانی پی رہے ہیں، لیکن حقیقت میں ان کے جسم میں پانی کی کمی ہوسکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق چاہے کوئی شخص سادہ نلکے کا پانی استعمال کرے یا اسپارکلنگ واٹر، ہائیڈریشن کی کمی ایک عام مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈی ہائیڈریشن اس وقت ہوتی ہے جب جسم سے پسینے، پیشاب اور سانس لینے جیسے قدرتی عمل کے ذریعے خارج ہونے والا پانی اس مقدار سے زیادہ ہو جائے جو ہم روزمرہ زندگی میں پانی یا دیگر مشروبات کی صورت میں استعمال کرتے ہیں۔

چونکہ انسانی جسم کا تقریباً 70 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے، اس لیے پانی کی کمی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر اس مسئلے کو طویل عرصے تک نظر انداز کیا جائے تو یہ سنگین طبی پیچیدگیوں اور حتیٰ کہ جان لیوا صورتحال کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

برطانیہ میں اس حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ مختلف رپورٹس کے مطابق وہاں بڑی تعداد میں لوگ روزانہ درکار مقدار سے کم پانی پیتے ہیں۔ بعض آن لائن ذرائع کے مطابق نصف سے زیادہ افراد مطلوبہ مقدار میں پانی استعمال نہیں کرتے۔

برطانوی محکمہ صحت کے مطابق بالغ افراد کو روزانہ تقریباً دو سے ڈھائی لیٹر پانی پینا چاہیے۔ اس مقدار میں چائے، کافی، دودھ اور پھلوں کے جوس سمیت دیگر مشروبات میں موجود پانی بھی شامل کیا جاتا ہے۔

ماہر غذائیت جینا ہوپ کے مطابق کچھ پھل اور سبزیاں بھی جسم کو پانی فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ ان کے بقول کھیرا، ٹماٹر اور اجوائن پانی سے بھرپور سبزیاں ہیں، جبکہ خربوزہ، تربوز اور انناس جیسے پھل بھی پانی کی اچھی مقدار رکھتے ہیں، تاہم ان میں چینی کی مقدار زیادہ ہونے کے باعث انہیں اعتدال میں استعمال کرنا چاہیے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جسم میں پانی کی مناسب مقدار برقرار نہ رکھی جائے تو قبض، تھکن اور دیگر صحت کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں، جبکہ شدید صورت میں یہ صورتحال کومہ تک بھی پہنچ سکتی ہے۔

تحقیقی ماہرین کے مطابق پانی کی کمی کا تعلق جسم کے اسٹریس ردعمل سے بھی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق جسم میں پانی کی کمی دل کی بیماری، گردوں کے مسائل، موڈ کی خرابی اور ذیابیطس کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
 
 

ٹیگز: