Get Alerts

شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ کا 148واں یومِ ولادت آج منایا جا رہا ہے

شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ کا 148واں یومِ ولادت آج منایا جا رہا ہے

لاہور : 9 نومبر کو پاکستان بھر میں مفکر پاکستان، شاعر مشرق اور قومی رہنما ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی 148 ویں یوم پیدائش ’’یوم اقبال‘‘ کے طور پر عقیدت و احترام سے منایا جاتاہے۔ اس موقع پر مختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیا، جن میں تعلیمی اداروں میں سیمینارز، مشاعرے اور نشریاتی پروگرامز شامل تھے۔

ڈاکٹر اقبال 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور اپنے تعلیمی سفر کا آغاز وہاں سے کیا۔ بعد ازاں، آپ نے لاہور میں گورنمنٹ کالج سے بی اے اور ایم اے کی ڈگری حاصل کی اور پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلینڈ اور جرمنی کا سفر کیا جہاں سے آپ نے فلسفے میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

علامہ اقبال نے اپنی شاعری اور فلسفے کے ذریعے نہ صرف مسلمانوں میں بیداری پیدا کی بلکہ پاکستان کے قیام کا خواب بھی دیکھا۔ ان کا مشہور 1930ء کا الہٰ آباد خطاب جس میں انہوں نے پاکستان کے قیام کا تصور پیش کیا، آج بھی تاریخ کا اہم سنگ میل ہے۔

یوم اقبال کے موقع پر وزیرِ اعظم پاکستان اور دیگر حکومتی شخصیات نے اپنے بیانات میں کہا کہ ڈاکٹر اقبال کی تعلیمات اور وژن ہمیشہ قوم کے لیے رہنمائی کا ذریعہ رہیں گی۔ ان کے فلسفے میں مسلمانوں کی خودی، اسلامی عظمت اور قومی اتحاد کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔

یوم اقبال کے دن شاعر مشرق کے کلام کو یاد کرتے ہوئے کہا گیا کہ اقبال کی شاعری نے نہ صرف برصغیر کے مسلمانوں کو ایک نیا حوصلہ دیا، بلکہ دنیا بھر میں ان کی شاعری کی شہرت نے انہیں ایک عالمی مفکر کی حیثیت عطا کی۔ ان کی نظمیں، جیسے "لب پہ آتی ہے دعا" اور "خُدی کو کر بلند" آج بھی ہر دل میں زندہ ہیں۔

یوم اقبال کا مقصد نہ صرف ان کی شاعری کو یاد کرنا ہے بلکہ ان کے فلسفے کو اپنی زندگیوں میں اپنانا بھی ہے تاکہ ہم ایک مضبوط، باہمت اور خود مختار قوم بن سکیں۔

اس دن کے موقع پر مختلف تعلیمی اداروں میں اقبال کے کلام کی محافل، سیمینارز اور فکری نشستوں کا اہتمام کیا گیا۔ قوم ڈاکٹر اقبال کی تعلیمات اور ان کے خواب کو حقیقت بنانے کے لیے اپنے عزم کو مزید پختہ کرنے کا عہد کرتی ہے۔

علامہ اقبال کا پیغام آج بھی نوجوانوں کے دلوں میں زندہ ہے اور ان کے فلسفے نے کئی نسلوں کو آگے بڑھنے کی ترغیب دی ہے۔ ان کی شاعری اور خیالات کو نہ صرف اردو بلکہ انگریزی، جرمن، فرانسیسی، اور دیگر زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے۔

یوم اقبال ایک موقع ہے جب پوری قوم اپنے عظیم رہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی تعلیمات کو اپنے عمل میں ڈھالنے کا عزم کرتی ہے۔

پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی یوم اقبال کی مناسبت سے تقریبات کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ لاہور، کراچی، اسلام آباد، اور دیگر بڑے شہروں میں شاعر مشرق کی زندگی اور خدمات پر سیمینارز، تقریری مقابلے اور ادبی محافل کا انعقاد کیا گیا۔ نوجوانوں نے اقبال کی شاعری کی گونج میں اپنے عزم کا اظہار کیا اور ان کی تعلیمات کو اپنانے کا عہد کیا۔

یوم اقبال کے اس موقع پر پورے ملک میں ایک نیا جوش و جذبہ محسوس کیا گیا، جس کا مقصد علامہ اقبال کے فلسفے کو نئے دور کے تقاضوں کے مطابق سمجھنا اور اس پر عمل پیرا ہونا ہے۔

یوم اقبال کے اس دن کو یاد کر کے ہم اپنے عظیم رہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں اور ان کی تعلیمات کو اپنے زندگیوں میں عملی طور پر ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ہم ایک مضبوط اور کامیاب قوم بن سکیں۔

ٹیگز: