نیویارک : اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تخفیف اسلحہ اور بین الاقوامی سلامتی کی کمیٹی نے پاکستان کی پیش کردہ 4 اہم قراردادیں منظور کر لی ہیں۔ ان قراردادوں میں علاقائی تخفیف اسلحہ، اعتماد سازی کے اقدامات اور جوہری سلامتی سے متعلق مؤثر اقدامات کی تجویز شامل ہیں۔
پاکستان کے اقوام متحدہ میں مستقل مشن نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ کمیٹی نے متفقہ طور پر دو قراردادیں منظور کیں جو علاقائی تخفیف اسلحہ اور اعتماد سازی کے اقدامات کے حوالے سے تھیں۔ دیگر دو قراردادیں جوہری ہتھیاروں کے استعمال یا استعمال کے خطرے سے متعلق تھیں، جن کا مقصد غیر جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاستوں کو مؤثر بین الاقوامی انتظامات کے ذریعے تحفظ فراہم کرنا تھا۔ ان قراردادوں کو اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی بھاری اکثریت نے منظور کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کئی دہائیوں سے اقوام متحدہ میں جوہری تخفیف اسلحہ، علاقائی تخفیف اسلحہ، روایتی ہتھیاروں کے کنٹرول اور اعتماد سازی کے اقدامات کے شعبے میں قیادت فراہم کرتا رہا ہے۔ پاکستان نے اس اہم معاملے پر بین الاقوامی برادری کی توجہ مبذول کرانے اور عالمی امن کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کیا۔
پاکستان کی طرف سے اس اعتماد سازی کے مطالبے کا وقت خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ قراردادیں بھارت کے ساتھ کشیدگی کے پس منظر میں منظور ہوئیں، جب کہ پاکستان کے اعلیٰ فوجی کمانڈر جنرل ساحر شمشاد مرزا نے حالیہ دشمنیوں کے بعد خبردار کیا تھا کہ ان کشیدگیوں کے اثرات مستقبل میں مزید بڑھ سکتے ہیں۔