Get Alerts

لاہور سمیت پنجاب میں سموگ کا بحران برقرار، ایئر کوالٹی انڈیکس خطرناک حد تک بڑھ گیا

لاہور سمیت پنجاب میں سموگ کا بحران برقرار، ایئر کوالٹی انڈیکس خطرناک حد تک بڑھ گیا

لاہور: پنجاب میں سموگ کا بحران بدستور جاری ہے اور شہر کی فضا آج بھی شدید آلودگی کا شکار ہے۔ لاہور کے مختلف علاقوں میں ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے، جس سے شہریوں کی صحت پر سنگین اثرات مرتب ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

لاہور کے مختلف مقامات پر ایئر کوالٹی انڈیکس کی شرح نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ راوی روڈ پر AQI 302، لوئر مال 515، اقبال ٹاؤن 517، ساندہ روڈ 497، ایف سی کالج میں 466 اور صدر کینٹ میں 437 ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ فیصل آباد میں ایئر کوالٹی انڈیکس 410 اور ملتان میں 367 تک جا پہنچا ہے، جو شہریوں کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔

ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ مسلسل بڑھتی ہوئی آلودگی شہریوں کے لئے شدید خطرہ بن چکی ہے۔ انہوں نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت دی ہے، جیسے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کرنا، ماسک کا استعمال کرنا، اور صبح کے اوقات میں کھلی فضا میں سرگرمیاں نہ کرنا۔

سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کی روک تھام کے لیے پنجاب حکومت کا گرینڈ آپریشن جاری ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ کی ٹیمیں 24 گھنٹے متحرک ہیں اور دھواں چھوڑتی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہیں۔ نومبر کے پہلے ہفتے میں 4184 گاڑیوں کا معائنہ کیا گیا، جس میں 877 گاڑیاں دھواں چھوڑنے اور بغیر فٹنس سرٹیفکیٹ کے پائی گئیں۔ ان گاڑیوں کے چالان کر کے 288 گاڑیاں بند کر دی گئیں، جبکہ گڈز ٹرانسپورٹ میں اوورلوڈنگ کرنے پر 671 گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی گئی۔

مجموعی طور پر 80 لاکھ روپے کے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور 255 ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ 208 ڈرائیورز کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ محکمہ ماحولیات کا کہنا ہے کہ سموگ کی روک تھام کے لیے مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

ماہرین نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس وقت کی آلودگی سے بچنے کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور حکومت کی جانب سے دی جانے والی ہدایات پر عمل کریں تاکہ سموگ کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔

ٹیگز: