Get Alerts

بھارت کی جمہوریت عدم برداشت اور نفرت کا نمونہ بن چکی ہے ، پاکستان

بھارت کی جمہوریت عدم برداشت اور نفرت کا نمونہ بن چکی ہے ، پاکستان

نیویارک :  اقوامِ متحدہ میں پاکستان نے بھارت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی نام نہاد جمہوریت اب عدم برداشت، نفرت اور اسلاموفوبیا کا نمونہ بن چکی ہے، جہاں اقلیتوں کے لیے زندگی تنگ کر دی گئی ہے۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی نمائندہ صائمہ سلیم نے بھارتی وفد کے بیان کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہندوتوا نظریے کے زیرِ اثر بھارت میں اقلیتیں، خصوصاً مسلمان، خوف اور جبر کے ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہاں ہجوم کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتل، مساجد کی مسماری، اور گرجا گھروں پر حملے روزمرہ کا معمول بن چکے ہیں۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت میں نسل کشی کے مطالبات اور نفرت انگیز تقاریر کو معمول بنا دیا گیا ہے، جس نے ملک کے سیکولر اور جمہوری چہرے کو مسخ کر دیا ہے۔ ان کے مطابق اختلافِ رائے کو دبایا جا رہا ہے اور متنوع معاشرتی شناختوں کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔

انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ جموں و کشمیر بھارت کا حصہ نہ کبھی تھا اور نہ کبھی ہوگا۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ کشمیر ایک متنازع خطہ ہے، اور پاکستان کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی بھرپور اور غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔

صائمہ سلیم نے مزید کہا کہ بھارتی افواج کی جانب سے کشمیری عوام پر ریاستی دہشت گردی، جبری گمشدگیوں، اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ اگر بھارت کے پاس چھپانے کو کچھ نہیں تو وہ بین الاقوامی مبصرین اور میڈیا کو مقبوضہ کشمیر تک رسائی دے۔

پاکستانی نمائندہ نے کہا کہ بھارت کا رویہ جارحانہ اور غیر ذمہ دارانہ ہے، جو نہ صرف پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی کرتا ہے بلکہ خطے میں عدم استحکام اور کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے۔ ان کے مطابق بھارت جھوٹا پراپیگنڈا پھیلا کر دہشت گردی کے الزامات لگاتا ہے، جب کہ حقیقت میں وہ خود جنوبی ایشیا کے امن کے لیے خطرہ ہے۔

صائمہ سلیم نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر بھی تشویش ظاہر کی، اور کہا کہ ایسے اقدامات نہ صرف بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہیں بلکہ انسانی وقار اور اچھے ہمسائیگی کے اصولوں کی بھی توہین ہیں۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ “جنوبی ایشیا میں پائیدار امن تب ہی ممکن ہوگا جب بھارت کشمیر پر اپنا غیر قانونی قبضہ ختم کرے اور ریاستی دہشت گردی کی پالیسی ترک کرے۔ پاکستان ہمیشہ امن، انصاف اور کشمیری عوام کے حقوق کے لیے ڈٹا رہے گا۔”

ٹیگز: