Get Alerts

26ویں آئینی ترمیم کیس، سپریم کورٹ نے سماعت پیر تک ملتوی کردی

 26ویں آئینی ترمیم کیس، سپریم کورٹ نے سماعت پیر تک ملتوی کردی

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے دوران وکلا اور 8 رکنی آئینی بینچ کے درمیان فل کورٹ کی تشکیل، بینچ کے دائرہ اختیار اور آئینی شقوں پر تفصیلی بحث ہوئی۔

سابق سینیئر وکیل منیر اے ملک نے عدالت سے استدعا کی کہ اس اہم معاملے کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ کے تمام ججز پر مشتمل فل کورٹ تشکیل دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ بینچ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ فل کورٹ تشکیل دے، مگر اس فل کورٹ میں صرف وہ ججز شامل ہوں جو 26ویں ترمیم سے پہلے تعینات تھے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے سوال اٹھایا کہ کیا موجودہ بینچ فل کورٹ بنانے کا مجاز ہے اور اگر 26ویں ترمیم کے بعد تعینات ججز کو نکال دیا جائے تو عدالت میں کیا بچے گا؟ دیگر ججز نے بھی آئینی شقوں خصوصاً آرٹیکل 191 اے کے اطلاق پر سوالات کیے اور اس بات پر غور کیا کہ کیا عدالت اس آرٹیکل کو نظرانداز کر کے فیصلے کر سکتی ہے؟

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ عدالت نے ہمیشہ آئین کی بالادستی کو مقدم رکھا ہے، نہ کہ ترمیم کو،  جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر آرٹیکل 191 اے کو نظرانداز کیا گیا تو پھر عدالت کا وجود ہی سوالیہ نشان بن جائے گا۔

منیر اے ملک نے وضاحت کی کہ ان کا مطلب فل کورٹ سے تمام ججز نہیں بلکہ صرف وہ ججز ہیں جو ترمیم سے پہلے سپریم کورٹ میں تھے۔ اس پر جسٹس مندوخیل نے پوچھا کہ کیا عدالت اپنے دوسرے ساتھی ججز کو نظرانداز کر سکتی ہے؟ عدالت نے منیر اے ملک کے دلائل مکمل ہونے پر سماعت پیر تک ملتوی کر دی۔

ٹیگز: