نیویارک: امریکہ نے فلسطینی صدر اور ان کے وفد کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کے لیے ویزا دینے سے انکار کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد فلسطینی وفد کو نیویارک جانے سے روک دیا گیا ہے جہاں اجلاس 23 ستمبر سے شروع ہو رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، فلسطینی وفد کی شرکت پر پابندی کے باعث اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی میزبانی نیویارک کے بجائے جنیوا میں کرانے کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔ یہ اجلاس دو ریاستی حل اور فلسطین کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدگی سے متعلق اہم فیصلے کرے گا۔
ٹرمپ انتظامیہ کا یہ اقدام ایک تاریخی سنگ میل ہے کیونکہ 1988 میں بھی امریکہ نے فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کے سربراہ یاسر عرفات کو نیویارک میں شرکت سے روک دیا تھا، لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ پورے فلسطینی وفد کو امریکہ آنے سے روکا گیا ہے۔
جنرل اسمبلی اجلاس کے دوران 22 ستمبر کو سعودی عرب اور فرانس کی قیادت میں ایک خصوصی کانفرنس بھی ہو گی، جس میں فلسطینی صدر کی شرکت متوقع تھی۔ اس کانفرنس میں برطانیہ، فرانس، آسٹریلیا، اور کینیڈا سمیت کئی ممالک فلسطین کو تسلیم کرنے کے حق میں اہم اعلانات کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب، ڈنمارک کے رکن یورپی پارلیمنٹ پرکلاسین نے اقوام متحدہ کا اجلاس جنیوا میں کرانے کی تجویز دی ہے تاکہ فلسطینیوں کے حق کو تسلیم کیا جا سکے اور امریکی حکومت کو واضح پیغام دیا جا سکے۔