امریکی اعلی سطحی افسر کی لیبیا کو تین مختلف حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز

امریکی اعلی سطحی افسر کی لیبیا کو تین مختلف حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز

واشنگٹن /طرابلس:ایک امریکی اعلی سطحی افسر نے لیبیا کو دولت ِ عثمانیہ کے دور کے تین مختلف علاقوں کی سرحدوں پر تقسیم کرنے کیتجویز پیش کردی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایک امریکی اعلی سطحی افسر نے ٹشو پیپر پر کھینچے گئے نقشے کے ساتھ لیبیا کو دولت ِ عثمانیہ کے دور کے تین مختلف علاقوں کی سرحدوں پر تقسیم کی تجویز پیش کی ہے۔
برطانوی روزنامہ دی گارڈیئن میں اسٹیفن کرچ گیسنر اور جولین برگر کے حوالے سے شائع کردہ خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے معاونین میں سے سباستیان گورکا نے ایک یورپی سفارتکار کے ساتھ ملاقات میں نیپکن پر کھینچے گئے ایک نقشے کو دکھاتے ہوئے اس ملک کو تین حصوں میں تقسیم کیے جانے کی تجویز پیش کی ہے۔
ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی برائے لیبیا بننے کی کوششوں میں مصروف گورکا 'ریڈیکل اسلام مخالف' نظریات کے ساتھ پہچانے جاتے ہیں۔خیال رہے کہ لیبیا میں سن 2011 میں امریکہ کے تعاون سے مداخلت اور معمر قدافی کی حکومت کا تختہ الٹائے جانے کے بعد سے اس ملک میں استحکام قائم نہیں ہو سکا ہے۔روزنامہ گارڈیئن سے انٹرویو میں بعض ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ملک کا تین حصوں میں بٹوارہ تیل کے وسائل کی بنا پر سرحدی جھڑپوں کو شہہ دے گا۔