Get Alerts

امریکا میں ایک سینٹ کا سکہ ختم؟ ٹرمپ نے نیا حکم جاری کر دیا

امریکا میں ایک سینٹ کا سکہ ختم؟ ٹرمپ نے نیا حکم جاری کر دیا

واشنگٹن: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی محکمہ خزانہ کو ایک سینٹ کے نئے سکے بنانے اور جاری کرنے سے روک دیا ہے، تاہم پرانے سکے مارکیٹ میں گردش کرتے رہیں گے۔

رپورٹ کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ اعلان اپنی سوشل میڈیا ویب سائٹ "ٹروتھ سوشل" پر کیا۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا، "بہت طویل عرصے سے امریکا ایک سینٹ کے ایسے سکے بنا رہا ہے جن کی قیمت 2 سینٹ سے زیادہ ہے۔ یہ بہت فضول ہے! میں نے سیکرٹری آف یو ایس ٹریژری کو ہدایت دی ہے کہ وہ نئے سکوں کی پیداوار بند کر دیں۔ آئیے اپنے عظیم ملک کے بجٹ سے پیسے بچائیں، چاہے وہ ایک پیسہ ہی کیوں نہ ہو۔"

رپورٹ کے مطابق، پینی یا سینٹ کے سکے کی پیداوار پر زیادہ لاگت آنے کے باعث اسے ختم کرنے کی تحریک زور پکڑ رہی تھی، خاص طور پر گزشتہ ماہ ایلون مسک کے حکومتی کارکردگی کے محکمے DOGE کی جانب سے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اس حوالے سے مہم چلانے کے بعد۔

CNN کے مطابق، 2023 میں امریکی ٹکسال نے 4.1 بلین مالیت کے ایک سینٹ کے سکے مارکیٹ میں گردش کیے تھے۔ مالی سال 2024 میں جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، امریکی پینی کی پیداوار اور تقسیم پر تقریباً 3.7 سینٹ فی سکہ لاگت آ رہی ہے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ہے۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ زنک اور تانبے سمیت دھاتوں کی بڑھتی ہوئی قیمتیں بتائی جا رہی ہیں۔

یاد رہے کہ 2013 میں بروکنگ انسٹی ٹیوشن کی ویب سائٹ پر نہ صرف ایک سینٹ بلکہ "نکل" (پانچ سینٹ کے سکے) کی پیداوار بھی روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ چھوٹے فرق والے سکے اب غیر ضروری ہوتے جا رہے ہیں اور ان کی پیداوار حکومت کے لیے خسارے کا باعث بن رہی ہے۔
 

ٹیگز: