Get Alerts

افغانستان میں شدت پسندی کا فروغ: 'دی نیشنل انٹرسٹ' نے علاقائی و عالمی سلامتی کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی

افغانستان میں شدت پسندی کا فروغ: 'دی نیشنل انٹرسٹ' نے علاقائی و عالمی سلامتی کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی

واشنگٹن/کابل: امریکی جریدے 'دی نیشنل انٹرسٹ' نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ افغانستان میں طالبان رجیم شدت پسندی کے فروغ میں معاون ثابت ہو رہی ہے، جس سے نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سلامتی کو بھی سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق طالبان کے زیرِ اثر دہشت گرد گروہ سرحد پار حملوں میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔رپورٹ  کے مطابق  دہشت گرد گروہ ان ممالک کی سرزمین کو نشانہ بنا رہے ہیں، جس میں پاکستان کو سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان کا سامنا ہے۔
 افغان سرزمین سے ہونے والی کارروائیوں میں چینی شہریوں کو براہِ راست نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس سے بیجنگ کے لیے سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔
رپورٹ میں افغانستان کے اندرونی حالات پر ڈیٹا پیش کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ طالبان کے قبضے کے بعد تعلیمی ڈھانچہ تیزی سے تبدیل ہوا ہے۔     مدرسوں کی تعداد: 13 ہزار سے بڑھ کر 23 ہزار ہو چکی ہے۔ 15 لاکھ سے بڑھ کر 30 لاکھ تک جا پہنچی ہے، جسے شدت پسندی کے مستقبل کے لیے ایک بڑا نیٹ ورک قرار دیا جا رہا ہے۔
جریدے نے مغربی دنیا کی پالیسی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ      مغرب اب بھی طالبان رجیم کو سیکیورٹی خطرے کے بجائے محض ایک اخلاقی مسئلہ سمجھ رہا ہے،    انسانی امداد کے نام پر طالبان کو فراہم کی جانے والی ہفتہ وار نقد رقوم پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔    مغربی ممالک اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ ان کی سرزمین محفوظ ہے، جبکہ خطے میں شدت پسند نیٹ ورکس منظم ہو رہے ہیں۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان سے تاجکستان میں ہونے والے ڈرون حملوں اور فائرنگ میں متعدد چینی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ ترکستان اسلامک پارٹی کی افغانستان میں موجودگی کو چین کی قومی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان اور چین مشترکہ طور پر طالبان سے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
 رپورٹ کے آخر میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر اس علاقائی بحران کو نظرانداز کیا گیا تو یہ عالمی معیشت اور دہشت گردی کے خلاف اب تک کی کامیابیوں کو ملیا میٹ کر سکتا ہے۔

ٹیگز: