اسلام آباد: پاکستان نے ماریا شہباز کیس سے متعلق بعض یورپی حلقوں کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاملے کو حقائق کے برعکس پیش کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ یورپ میں موجود ایک گروہ ماریہ شہباز کے کیس کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق بعض حلقوں کی جانب سے غلط حقائق کی بنیاد پر یورپی پارلیمنٹ میں قراردادیں اور مباحثے کرائے جا رہے ہیں۔ 9 جولائی کو یورپی پارلیمنٹ نے بھی اسی مخصوص معاملے پر پاکستان کے خلاف ایک قرارداد منظور کی۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق ماریا شہباز، دختر شہباز مسیح، فیصل آباد کے مدینہ ٹاؤن کی رہائشی تھی، جو 28 اپریل 2020 کو اپنی مرضی سے محمد نقاش کے ساتھ گھر سے گئی۔ والدہ کی درخواست پر پولیس نے ایف آئی آر درج کرکے قانونی کارروائی شروع کی۔
3 جولائی 2020 کو ماریا شہباز اور محمد نقاش عدالت کے سامنے پیش ہوئے، جہاں دونوں نے شادی کا بتایا۔ عدالت نے حتمی فیصلے تک ماریا کو دارالامان بھیج دیا۔ بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے ماریا کے بیان اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر 4 اگست 2020 کو ایف آئی آر ختم کرتے ہوئے اسے اپنی مرضی کے مطابق شوہر کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی۔
پاکستانی حکام کے مطابق دورانِ سماعت ماریا کی عمر سے متعلق پیش کیے گئے دستاویزات میں تضادات سامنے آئے اور عدالت نے اسے بالغ قرار دیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ فیصلے کے بعد جبری مذہب تبدیلی یا غیر قانونی حراست سے متعلق کوئی نئی شکایت سامنے نہیں آئی۔
پاکستانی حلقوں نے الزام عائد کیا ہے کہ بعض گروپس نے اس کیس کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا، جبکہ حکام کا مؤقف ہے کہ عدالت نے قانون اور دستیاب شواہد کے مطابق فیصلہ کیا۔