نئی دہلی : بھارت میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف تشدد اور نفرت پر مبنی واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھا گیا۔ متعدد ریاستوں میں مسلمانوں کو صرف اپنی مذہبی شناخت یا قربانی کی روایت ادا کرنے پر نشانہ بنایا گیا۔
عرب و بھارتی ذرائع کے مطابق، بی جے پی کی حکومت میں ہندوتوا نظریے کو فروغ ملنے کے بعد مذہبی آزادی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ گائے کے تحفظ کے نام پر بنائے گئے قوانین اور ان پر عمل درآمد کا انداز مسلمانوں کے خلاف استعمال ہو رہا ہے، جس سے معاشرتی تقسیم مزید گہری ہو گئی ہے۔
حیدرآباد میں گاؤ رکھشکوں نے قربانی کے بعد جانوروں کی باقیات لے جانے والی گاڑی کو جلا دیا اور ڈرائیور پر حملہ کیا۔ کرناٹکا میں محض گائے ذبح کرنے کے شک پر دکانیں بند کرائی گئیں اور کئی افراد گرفتار ہوئے۔ مدھیہ پردیش، اڑیسہ اور آسام میں بھی درجنوں مسلمان محض شبہے کی بنیاد پر زیرِ حراست لیے گئے۔
رپورٹس کے مطابق ان واقعات میں پولیس بھی ہندوتوا شدت پسندوں کے دباؤ میں آ کر کارروائیاں کر رہی ہے۔ دی وائر کی تحقیق کے مطابق بھارت میں گائے کے نام پر ہونے والے 97 فیصد حملے نریندر مودی کے دور میں ہوئے، جو ایک تشویشناک رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔
عید کے مقدس دن پر بھارت کے کئی علاقوں میں مسلمانوں کو نہ صرف مذہبی آزادی سے محروم رکھا گیا، بلکہ ان پر تشدد، گرفتاریوں اور دھمکیوں کا سلسلہ بھی جاری رہا، جبکہ حکومت خاموش تماشائی بنی رہی۔