Get Alerts

دہشت گردی پر سیاست کی گئی، نیشنل ایکشن پلان نظرانداز ہوا: ڈی جی آئی ایس پی آر

دہشت گردی پر سیاست کی گئی، نیشنل ایکشن پلان نظرانداز ہوا: ڈی جی آئی ایس پی آر

پشاور : ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری  کور ہیڈکوارٹر پشاور میں پریس کانفرنس  کر رہے ہیں ۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پریس کانفرنس کا مقصد خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینا ہے۔

 انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ ریاستی ادارے دہشت گردی کے خلاف بھرپور اقدامات کر رہے ہیں اور امن و امان قائم رکھنے کے لیے پوری طرح متحرک ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ عوامی تعاون سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں 14,500 سے زائد آپریشنز کیے گئے اور 2025 میں 10,115 آپریشنز ہوئے؛ 2024 میں 769 دہشت گرد ہلاک کیے گئے جبکہ رواں سال ہلاک شدگان کی تعداد گزشتہ 10 برسوں میں سب سے زیادہ ہے۔

2024 میں خیبر پختونخوا میں 577 افراد شہید ہوئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارت افغانستان کو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے اڈے کے طور پر استعمال کرتا ہے، اور کہا کہ دہشت گردی کو مقامی و سیاسی پشت پناہی حاصل ہے اور اس پر سیاست نے قوم کو الجھایا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے پیچھے مقامی اور سیاسی گٹھ جوڑ ہے، جسے ختم کیے بغیر امن ممکن نہیں۔ اُنہوں نے واضح کیا کہ دہشتگردی کے سہولت کار اور ان کے بیرونی مددگار ریاست کے حوالے کیے جائیں گے اور کسی فرد کو عوام کی جان و مال کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے دہشتگردی کے خلاف جنگ کو کمزور کرنے والے گمراہ کن بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہر مسئلے کا حل مذاکرات ہوتے تو غزوات اور حملے نہ ہوتے۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں کو پشاور میں بیٹھ کر نیشنل ایکشن پلان بنانے اور اس پر متحد ہونے کا مشورہ دیا۔

ترجمان پاک فوج نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ آج کل ایک ایسا بیانیہ سامنے آیا ہے جو افغان مہاجرین کو واپس نہ بھیجنے کی حمایت کرتا ہے، جس سے دہشتگردی کے خلاف جنگ کمزور ہوئی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے زور دے کر کہا کہ فوجی جوانوں کی شہادت پر سیاست کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی اور دہشتگردوں و ان کے سہولت کاروں پر سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کو اب کوئی "اسپیس" نہیں دی جائے گی اور اسٹیٹس کو کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

آخر میں انہوں نے سوال کیا کہ نئے بیانیے بنانے والے کیا 2014 اور 2021 میں کیے گئے اقدامات کو غلط سمجھتے ہیں؟ اور خیبرپختونخوا کو دہشتگردی سے نجات دلانے کے لیے سیاسی جماعتوں کو یک زبان ہو کر کام کرنا ہوگا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں 2025 کے دوران 15 ستمبر تک 10 ہزار 115 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں، جن میں 917 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ یومیہ اوسطاً 40 آپریشنز کیے جا رہے ہیں جن میں 3.5 دہشت گرد مارے جا رہے ہیں۔

ایک تفصیلی بریفنگ میں ترجمان پاک فوج نے انکشاف کیا کہ رواں سال سیکیورٹی فورسز، پولیس اور شہریوں سمیت 516 افراد دہشت گردی کا نشانہ بن کر شہید ہو چکے ہیں، جن میں پاک فوج کے 311 جوان و افسران، 73 پولیس اہلکار اور 132 شہری شامل ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ 2024 اور 2025 میں مارے جانے والے افغان دہشت گردوں کی تعداد 161 رہی، جب کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں مداخلت کرتے ہوئے 135 خارجی مارے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے 30 خود کش حملوں میں افغان شہری ملوث تھے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ افغانستان بھارت کے دہشت گردی کے بیس کیمپ کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔

دہشت گردی ختم نہ ہونے کی 5 بڑی وجوہات

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے دہشت گردی کے مکمل خاتمے میں رکاوٹ بننے والی 5 بڑی وجوہات بھی بیان کیں:

نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد نہ ہونا۔

دہشت گردی کے مسئلے پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور قوم کو تقسیم کرنا۔

بھارت کی جانب سے افغانستان کو دہشت گردی کے بیس کیمپ کے طور پر استعمال کرنا۔

افغان سرزمین پر دہشت گردوں کو پناہ گاہوں اور جدید ہتھیاروں کی دستیابی۔

مقامی اور سیاسی پشت پناہی رکھنے والے دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کا گٹھ جوڑ۔

نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد میں غفلت

ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ نیشنل ایکشن پلان کے 14 نکات میں سے صرف پہلا نکتہ، یعنی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن، پر مؤثر انداز میں کام ہو رہا ہے۔ دیگر نکات جیسے میڈیا و سیاسی بیانیہ، عدالتی اصلاحات، سی ٹی ڈی کی استعداد، مدارس کی رجسٹریشن، اور غیر قانونی افغانوں کی واپسی پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگست 2025 تک خیبرپختونخوا میں انسداد دہشت گردی عدالتوں سے کسی ایک دہشت گرد کو بھی سزا نہیں ہوئی۔ 2878 مقدمات گزشتہ تین سالوں سے زیر التوا ہیں جب کہ 1706 کیسز تین سال سے بھی زیادہ پرانے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ منشیات اور غیر قانونی ہتھیاروں کے ہزاروں مقدمات میں سزا کی شرح انتہائی کم ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں سی ٹی ڈی کی آپریشنل فورس صرف 3200 اہلکاروں پر مشتمل ہے جو دہشت گردی جیسے سنگین چیلنج سے نمٹنے کے لیے ناکافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2014 اور 2021 میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ سی ٹی ڈی کو مضبوط کیا جائے گا، لیکن ابھی تک اس پر خاطر خواہ عمل نہیں کیا گیا۔

ترجمان نے بتایا کہ 2014 اور 2021 میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ افغان مہاجرین کو واپس بھیجا جائے گا، لیکن اب اس پر سیاست کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر افغانستان میں امن قائم ہو چکا ہے تو مہاجرین کی واپسی میں رکاوٹ کیوں پیدا کی جا رہی ہے؟


ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کچھ عناصر افواج پاکستان اور شہدا کی قربانیوں کے خلاف جھوٹا اور من گھڑت بیانیہ بنا رہے ہیں، جو ایک سیاسی و مجرمانہ گٹھ جوڑ کا حصہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے لیے پاکستان کی سرزمین تنگ کر دی جائے گی۔


ترجمان پاک فوج نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اب اسٹیٹس کو نہیں چلے گا۔ جو عناصر خارجی دہشت گردوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں، ان کے پاس تین راستے ہیں:

خود دہشت گردوں کو ریاست کے حوالے کریں۔ریاست کے ساتھ مل کر ان کے خلاف کارروائی کریں۔بصورت دیگر ریاست پاکستان کے سخت ایکشن کے لیے تیار رہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے آخر میں شہدا کی تصاویر دکھاتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیوں پر سیاست کی اجازت نہیں دی جا سکتی، اور پاکستان و خیبرپختونخوا کو دہشت گردی سے نجات دلانے تک جنگ جاری رہے گی۔

ٹیگز: