لاہور : پاکستان کی معروف گلوکارہ نمرہ مہرا نے اپنی موسیقی کے ویڈیوز جاری کرنے والی کمپنی "بیانڈ ریکارڈز" پر دو سالوں سے ان کے حقوق کو دھوکہ دے کر غیر قانونی طور پر دوسری کمپنی کو منتقل کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
نمرہ نے انسٹاگرام پر ایک مختصر ویڈیو میں بتایا کہ بیانڈ ریکارڈز نے پچھلے دو سالوں سے انہیں کوئی رائلٹی ادا نہیں کی اور ان کے گانوں کے حقوق کو ان کی اجازت کے بغیر کسی تیسری پارٹی کو فروخت کر دیا۔
انہوں نے اس کمپنی کے سی ای او، جبران خان، پر بھی الزام لگایا کہ انہوں نے انہیں گمراہ کیا اور طویل عرصے تک حقائق سے لاعلم رکھا۔
نمرہ کا کہنا ہے کہ اس دوران وہ خود اپنی میوزک ویڈیوز بنانے اور انٹرویوز دینے کی ذمہ داری اٹھاتی رہیں، مگر کمپنی نے ان تمام کاموں کا مکمل کریڈٹ اپنے نام کر لیا۔
اگرچہ انہیں ادائیگی اور معاہدے کے حوالے سے متعدد وعدے کیے گئے، مگر ہمیشہ دھوکہ دیا گیا اور ان کی باتوں کو نظر انداز کیا گیا۔
جب بھی نمرہ نے رائلٹی یا معاہدے کے بارے میں سوالات اٹھائے، کمپنی اور اس کے سی ای او نے صاف جواب دینے سے گریز کیا اور معاملات کو ٹال مٹول سے نمٹایا۔
حال ہی میں نمرہ نے معلوم کیا کہ ان کے گانوں کے تمام حقوق بغیر ان کی اجازت کے کسی اور کمپنی کو فروخت کر دیے گئے ہیں، جس سے وہ شدید صدمے میں ہیں اور انصاف کی تلاش میں ہیں۔
نمرہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ قانونی کارروائی کریں گی اور ان کے وکیل نے بیانڈ ریکارڈز کو قانونی نوٹس بھیج دیا ہے۔
انہوں نے اپنے ہم عصر فنکاروں اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کے حق کے لیے آواز اٹھائیں اور ان کا ساتھ دیں۔
اب تک بیانڈ ریکارڈز کی جانب سے اس معاملے پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا، جبکہ سوشل میڈیا پر نمرہ کے حق میں ہمدردی اور حوصلہ افزائی کے پیغامات کی بھرمار ہے۔