اسلام آباد: اپوزیشن جماعتوں نے ایک بار پھر سے حکومت کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی ٹھان لی۔ پی ڈی ایم نے حکومت کی الیکشن ریفارمز کو مسترد کرتے ہوئے انتخابات ترمیمی بل پرحکومت کوٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کر لیا۔
اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا حکومت ہر محاذ پر ناکام ہے اور حکومت نے مہنگائی، بے روزگاری کے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں جبکہ افغان مسئلے کا حل فریقین کے باہمی مذاکرات سے ہونا چاہیے اور حکومت افغان صورتحال پر اپوزیشن کو اعتماد میں لے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ 21 اگست کو اسلام آباد میں اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس ہو گا اور اس اسٹیئرنگ کمیٹی اجلاس میں تجاویز کو حتمی شکل دی جائے گی جبکہ 28 اگست کو کراچی میں پی ڈی ایم کا اجلاس ہو گا اور 29 اگست کو پی ڈی ایم کراچی میں جلسہ کرے گی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین دھاندلی کا سب سے آسان طریقہ ہے اور یکطرفہ انتخابی اصلاحات کو مسترد کرتے ہیں اور اپوزیشن کا اتحاد شفاف انتخابات پر توجہ مرکوز کرے گا کیونکہ اس وقت پنجاب میں لوکل گورنمنٹ کانظام ختم کیا گیا اور پنجاب میں بلدیاتی نظام سےمتعلق عدالتی فیصلے پر عمل نہیں ہو رہا۔
اس موقع پر پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اعلان کیا کہ قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیر پاؤ کو پی ڈی ایم کا سینئر نائب صدر بنایا ہے۔
پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا اجلاس مولانا فضل الرحمان کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں حکومتی پالیسیوں پر گفتگو کی گئی۔ اجلاس کے دوران نے تمام اپوزیشن جماعتوں کے رہنماوں نے انتخابات ترمیمی بل پر حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس بات پر اتفاق کیا کہ انتخابات سے متعلق ترمیمی بل پر اتحاد سخت موقف اختیار کرے گا۔
اس موقع پر قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیر پاؤ نے مطالبہ کیا کہ پی ڈی ایم کی خالی نشستوں کو پُر کیا جائے جبکہ پیپلز پارٹی اور اے این پی کے خالی عہدوں پر تقرریاں کی جائیں۔