تہران : برطانوی اور عرب میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے ایران کے خلاف ایک نئی ہٹ لسٹ تیار کر لی ہے جس کے بعد ایران نے اپنے جوہری سائنسدانوں کو ملک بھر سے غائب کر کے انتہائی محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔
العریبیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کے ہاتھوں درجنوں ایرانی جوہری سائنسدان ہلاک ہو چکے ہیں، جس کے بعد باقی ماندہ ماہرین کو تہران کے محفوظ علاقوں اور شمالی ایران کے ساحلی شہروں میں ایسی پناہ گاہوں میں منتقل کیا گیا ہے جہاں عام لوگوں کا پہنچنا ناممکن ہے۔
ایرانی حکام نے بتایا ہے کہ زیادہ تر سائنسدانوں نے اچانک اپنی ملازمتیں ترک کر دی ہیں اور یونیورسٹیوں میں ان کی جگہ ایسے افراد کو رکھا گیا ہے جو جوہری پروگرام سے بے خبر ہیں تاکہ دشمن کو کچھ پتا نہ چل سکے۔
برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کے مطابق ایران نے جوہری سائنسدانوں کی ایک نئی کھیپ تیار کی ہے جو مارے گئے ماہرین کا کام سنبھال سکتی ہے۔ اسرائیلی ماہرین انہیں "چلتی پھرتی لاشیں" قرار دیتے ہیں جنہیں 24 گھنٹے سکیورٹی، بکتر بند گاڑیاں اور خفیہ رہائش فراہم کی گئی ہے، لیکن پھر بھی وہ اسرائیل کے نشانے پر ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہر مرکزی سائنس دان کے ساتھ کم از کم ایک نائب موجود ہوتا ہے اور وہ گروپ میں کام کرتے ہیں تاکہ اگر کوئی ہدف بن جائے تو دوسرا فوری طور پر اس کی جگہ لے سکے۔
اسرائیلی انٹیلی جنس کے سابق سربراہ دانی سیترینووچ نے خبردار کیا ہے کہ یہ سائنسدان یا تو ایران کو جوہری بم کے قریب لے جائیں گے یا اسرائیل کے اگلے نشانے بن جائیں گے، اور جو بھی اس پروگرام پر کام کرے گا اسے موت یا موت کی دھمکی کا سامنا کرنا ہوگا۔
13 جون سے شروع ہونے والی حالیہ جھڑپوں میں اسرائیل اور امریکہ نے ایران کے جوہری مراکز اور فوجی تنصیبات پر حملے کیے، جس میں درجنوں سائنسدان اور فوجی کمانڈر مارے گئے۔ اب ایران اپنے جوہری ماہرین کو بچانے کے لیے خفیہ حفاظتی اقدامات کر رہا ہے، لیکن یہ سوال باقی ہے کہ کیا وہ اسرائیلی حملوں سے بچ پائیں گے؟