Get Alerts

منہ کھول کر سونا: معمولی بات یا کسی بیماری کی علامت؟

منہ کھول کر سونا: معمولی بات یا کسی بیماری کی علامت؟

کیلیفورنیا:نیند کے دوران بہت سے افراد اپنی طبیعت سے بے خبر منہ کھول کر سوتے ہیں، لیکن طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس عادت کے پیچھے بعض اوقات صحت کے اہم مسائل چھپے ہوتے ہیں۔ منہ کھول کر سونا ہمیشہ بیماری کی علامت نہیں ہوتا، تاہم کچھ صورتوں میں یہ خطرے کی گھنٹی ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق، عام طور پر جب ناک بند ہو جاتی ہے، مثلاً شدید زکام یا ٹانسلز کی سوجن کی وجہ سے، لوگ سانس لینے کے لیے منہ کھولنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ بچوں میں یہ مسئلہ زیادہ دیکھا جاتا ہے کیونکہ بڑھے ہوئے اڈینائڈز یا ٹانسلز ناک کی نالی کو جزوی طور پر بند کر دیتے ہیں، جس کی وجہ سے نیند کے دوران منہ کھل جاتا ہے۔ عمر کے بڑھنے کے ساتھ یہ مسئلہ کم ہو جاتا ہے۔

ناک میں موجود سیپٹم کارٹلیج کا ٹیڑھا ہونا بھی ناک بند ہونے کی وجہ ہو سکتا ہے، جس کی صورت میں سرجری کے ذریعے علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر منہ کھول کر سونے کے دوران خراٹے یا سانس میں دشواری ہو تو یہ نیند کی بیماری (sleep apnea) کی علامت ہو سکتی ہے اور فوری معائنہ ضروری ہے۔

منہ کھول کر سونا منہ خشک ہونے کا سبب بنتا ہے، جس سے منہ کی صفائی متاثر ہوتی ہے اور جلن یا سوزش کا خدشہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ نیند کا معیار بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹرز مشورہ دیتے ہیں کہ اگر آپ کو یہ عادت ہے مگر کوئی شدید علامات نہیں تو بھی کسی ماہر سے رجوع کریں تاکہ مسئلے کی جڑ تک پہنچا جا سکے۔

نیند کے دوران منہ کھول کر سونا بذات خود بیماری نہیں، لیکن اگر اس کے ساتھ دیگر علامات ظاہر ہوں تو فوری توجہ ضروری ہے، کیونکہ ناک کی صحت اور سانس لینے کی سہولت ہماری مجموعی صحت پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔

ٹیگز: