ٹیسٹ کیس

Khalid Mahmood Faisal, Pakistan, Lahore, Daily Nai Baat, e-paper

شہر اقبال میں ہجوم کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے فیکٹری منیجر کا جسد خاکی اسکی بوڑھی ماں کے سامنے تھا تو وہ لمحہ سب کے لئے قیامت سے کم نہ تھا، اس کے چہرے سے نمایاں کرب ،دکھ ،بے بسی اور تاسف پوری دُنیا میڈیا کی آنکھ سے دیکھ رہی تھی، جن مراحل سے گذر کر اسکا تابوت اس کے گھر پہنچا ہو گا، جن افراد نے ان کے خاندان سے اظہار تعزیت کیا ہو گا، نجانے انھوں نے اس سانحہ کا سن کر جرم میں شریک نوجوانوں کے بارے میں کیا رائے قائم کی ہو گی، اسلام کے حوالہ سے کیا پیغام ان کو پہنچا ہے۔
 مرحوم آفیسر انہیں افراد کے مابین فرائض منصبی انجام دیتا رہا، لیکن اچانک ایسا کیا ہوا، کہ اس کے ماتحت ورکرز اسکی جان کے دشمن بن گئے،اسکی بات کو سننا بھی گوارا نہ کیا اور درندوں کی طرح اس پر جھپٹ پڑے، اس کی جان لے کر بھی انکا کلیجہ ٹھنڈا نہ ہوا تو انھوں نے تمام اخلاقی حدوں کو پار کرکے اس کی لاش کو ہی جلا ڈلا، اس سے بڑی سفاکی یہ تھی جلتے ہوئے منظر کو بڑے تفاخر کے ساتھ اپنے کیمروں کی آنکھ سے سوشل میڈیا کی نذر کرتے رہے جیسے بڑا معرکہ سر کر لیا ۔
 حیوانوں کے درمیاں کچھ انسان بھی تھے جو اپنی جان کی بازی لگا کر اِنکو اس غیر قانونی فعل سے باز رکھنے کے لئے منت سماجت بھی کرتے رہے، اپنی وضع قطع سے یہ گنوار یا اجڈ بھی دکھائی نہ دیتے تھے پھر عملی زندگی میں قدم رکھنے والے یہ جذباتی فیکٹری ملازمین بھلا یہ کیسے بھول گئے کہ قانون کو ہاتھ میں لینا کتناخطرناک ہو سکتا ہے،کیا ان میں سے کوئی اتنا بھی شعور نہ رکھتا تھا کہ اپنا ردعمل ظاہر کرنے سے پہلے یہ تو پوچھ لیتا کہ ماجرا کیا ہے؟ ۔
کئی سال کی رفاقت کو انھوں نے چند لمحات میں ہی بھلا دیا، آنکھیں ماتھے پر رکھ لیں،جس وحشیانہ خونخوار انداز میں ہجوم ”پردیسی“ پرحملہ آور ہوا کوئی مہذب معاشرہ اس کی اجازت دے ہی نہیں سکتا، اِسکی زیر نگرانی عرصہ دراز سے کام کرنے والے ورکرز اس کے نظریات اور رویہ سے کیسے نا آشنا تھے، ایک ذمہ دار ،بااصول فرد کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ عربی کی زبان سے نابلد تھا،اس کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ اس کی یہ حرکت اِسکی موت کا پیغام لائے گی،اس فرد کو صفائی کا موقع دیئے بغیر اس پر ظالمانہ تشدد کسی طور پر بھی انصاف پر مبنی نہ تھا،کیا ہجوم میں شریک اس بات سے واقف نہیں تھے کہ اخبارات کے اوراق پر لکھے پاکیزہ الفاظ گلی کوچوں میں روزانہ پاﺅں کے نیچے آتے رہتے ہیں مگر وہاں کسی کے جذبات مجروح نہیں ہوتے نہ ہی کسی کا ایمان خطرہ میں پڑتا ہے لیکن ایک تعلیم یافتہ مہمان فرد کی لاعلمی کی اتنی بڑی سزا از خود منصف بن کر کیوں دی گئی؟
جس آبادی میں وہ گذشتہ کئی سال سے رہائش پذیر تھا ،اس کے باسی اس کے پر امن ہونے کی شہادت دیتے ہیں،اس کے وہم و گمان میں بھی تھا کہ شہر کے محبت کرنے والے لوگ ہی اس کے دشمن بن جائیں گے،اقبال کے شہر کے نوجوان اس قدر وحشی بن جائیں گے،اقبال کا شاہین پوری انسانیت کا قاتل ٹھہر ے گا،اور ایسی سرزمیں جہاںاٹھانوے فیصد مسلمان ہوں وہ ایسی جہالت کے مرتکب ہوں گے،محض ایک غلط فہمی ارض پاک کو پورے عالم میں بدنام کر کے رکھ دے گی۔
بگڑے نوجوانوں نے اجتماعی جرم میں شریک ہوتے ہوئے یہ بھی نہ سوچا کہ اس سے ملک وقوم کی کتنی بڑی بدنامی ہوگی، اور اسکی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی، اگر یہ جوش کے بجائے ہوش سے کام لیتے، شہر کے معززین کو مدعو کر کے اس واقعہ پر راہنمائی لیتے کسی عالم دین مفتی سے رجوع کرتے، تو زندان کے پیچھے نوجوانوں اور انکے والدین کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔روزگار کی محرومی کے ساتھ ساتھ اب تو انھیں زندگی سے بھی ہاتھ دھونا پڑیں گے، علماءکرام کی مذمت کے بعد تو انھیں احساس ضرور ہوا ہو گا کہ انکا یہ سنگین جرم اسلام کی تعلیمات کے قطعی خلاف ہے۔ 
شہر سیالکوٹ میں یہ دوسرا بڑا سانحہ تھا اس سے قبل دو حفاظ بھائیوںکو محض افواہ کی بنیاد پر ہجوم نے موت کی نیند سلا دیا تھا۔ عدالت نے اس واقعہ کا از خود نوٹس لیا، مقدمہ چلا، ملزمان کی سزائے موت کے فیصلہ کو عدالت عظمیٰ نے عمر قید میں بدل دیا، اس طرح کا واقعہ گوجرانوالہ میں بھی پیش آیا تھا ایک فاتر العقل شخص پر قرآن کی بے حرمتی کا الزام لگایا گیا، اخباری اطلاعات کے مطابق مساجد سے اعلان ہوتے ہی عوام اس پر ٹوٹ پڑی اور انسانوں کے مابین یہ بے بسی کی تصویر بنا فرد بالآخر اللہ کے حضور پیش ہو گیا۔
ان واقعات سے یہ اخذ کرنا چنداں مشکل نہیں کہ یہاں قانون کو ہاتھ میں لینا عام سی بات سمجھا جاتا ہے، اگر اس نوع کے بلوہ میں شریک مجرموں کو قرار واقعی سزا مل جائے تو کوئی بھی اس اجتماعی جرم میں شریک نہ ہو، بدقسمتی سے مذہب ہی ایسا آسان نسخہ عوام کے ہاتھ لگا ہے جس کی آڑ لے کر اس طرح کی” وارداتیں“ ڈالی جاتی ہیں، ارباب اختیار بھی مذہبی کارڈ استعمال کرتے ہوئے اس کا ناجائز فائدہ اٹھاتے رہے ہیں، انکی آشیر باد ہی سے لسانی اور فرقہ وارانہ گروہ پروان چڑھتے رہے ہیں، سر عام گولیوں کا رقص جاری رہنا،الزامات کی پاداش میں مخالفین کو اغوا کرنا، انکی لاشوں کو مسخ کرنا معمول کی کارروائی خیال کی جاتی رہی ہے ،اس سے لوگوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں، بہت سے واقعات پولیس کی موجودگی میں بھی ہوئے ہیں، مذکورہ واقعہ میں بھی پولیس آفیسر ہجوم کے آگے ہاتھ جوڑ کر فیکٹری منیجر کی زندگی بھیک مانگتا میڈیا میں دکھائی دیتا ہے،اسکی بے بسی ریاست کی رٹ کی کمزوری کو نمایاں کر رہی تھی۔
اس سماج میں قانون طاقتور کے لئے مکڑی کا جالا ہی ثابت ہوا ہے، ماضی میں بہت سے اہم کیس سوشل میڈیا کی وجہ سے نمایاں بھی ہوئے، ان میں شریک ملزمان چونکہ بااثر سیاسی اور غیر سیاسی خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے، اس لئے انکو بچانے کے لئے تاخیری حربے استعمال کئے جاتے رہے ہیں،جس سے عام آدمی کے دل سے بھی قانون کا خوف جاتا رہا ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو بھرے شہر میں ایک غیر ملکی کی جان یوں نہ جاتی۔ 
اس المناک سانحہ پرپوری قوم، علماءکرام، سیاسی جماعتوں کی جانب سے منیجر پر حملہ اور قتل عمد کی بیک زبان مذمت اچھا اور بروقت فیصلہ ہے،تاہم بعض لوگ اس کی آڑ میں توہین رسالت قانون کے خاتمہ کی بات بھی کر رہے ہیں، اِن روشن خیالوں کی پشت پر غیر ملکی این جی اوز ہیں جو روز اول ہی سے اس ایجنڈا پر کام کر رہی ہیں۔قصور اس قانون کا نہیں بلکہ حقیقی مجرم وہ ہیں جو اسکی پناہ میں لاقانونیت کے مرتکب ہوتے ہیں۔
اس طرز کے سانحات کے بعد قانون حرکت میں آتا ہے، حکمران حسب روایت مذمتی بیان جاری کرتے ہیں، عدالتیں نوٹس لیتی ہیں، ملزمان کو کڑی سزا دلوانے کا عہد کیا جاتا ہے ،مگر تاریخ شاہد ہے اب تلک یہ عہد وفا نہیں ہو سکا ہے یہ مقدمہ بھی ہماری عدلیہ، پولیس اور ارباب اختیار کے لئے ٹیسٹ کیس ہے۔ میرٹ پر اس کا فیصلہ ہی قانون کی حکمرانی کی راہ متعین کرے گا۔دیکھنا یہ ہے کہ مرحوم کے لواحقین نظام عدل سے کتنے مطمئن ہیں۔