تحریر: طارق وسیم
پاکستان ابتدائی طور پر مشرقی اور مغربی دوصوبوں پر مشتمل تھا ، جس کا مشرقی صوبہ بنگال جبکہ مغربی صوبے میں پنجاب سندھ اور شمال مغربی سرحدی علاقے شامل تھے 1956 میں بلوچستان نے ریاست پاکستان سے الحاق کیا ،جس کے چند برس بعد ہی وہاں کی اشرافیہ حیلوں بہانوں سے وفاق کو بلیک میل کرنے لگی ۔ 1973 کے آئین میں صوبائی خود مختاری کاوعدہ کیا گیا تو، وزیر اعلیٰ بلوچستان کے عہدے کے درجنوں امیدوار پیدا ہوگئے، جن میں کچھ ایسے بھی تھے جن کے پاس چند سو ووٹ بھی نہیں تھے لیکن وہ اپنے علاقائی اثر ورسوخ کی بنیاد پر یہ عہدہ حاصل کرنا چاہتے تھے ،صوبے کے سردار اور نواب عوام کو کیڑے مکوڑوں کی طرح استعمال کرتے اور اپنے لیے مراعات حاصل کرتے رہے ۔
سرداری اور جاگیر داری نظام برقرار رکھنے کے لیے عوام کو تعلیم سے دور رکھا گیا ، عوام کی اکثریت بنیادی سہولتوں جیسے تعلیم صحت سے محروم رہے ، بلوچ مردوں کی بڑی تعداد کے تن پر کپڑے نہیں ہوتے تھے لیکن دنیا کی مہنگی ترین رائفل کندھے سے لٹک رہی ہوتی تھی ،راقم نے خود کئی بلوچوں سے سوال کیا کہ یہ رائفل آپ کے پاس کہاں سے آئی تو ان کا جواب ہوتا تھا ،سردار نے لے کر دی ہے ،خان آف قلات سے لے کر نواب اکبر بگٹی تک سب بلوچ سردار اور نواب باتیں انقلاب کی کیا کرتے تھے، لیکن اپنے ہی علاقے کے لوگوں کے حقوق پر آواز اٹھانا توہین سمجھتے تھے ۔ان کا آئین پر عمل داری اور صوبائی خود مختاری کا مطالبہ گیس کی رائلٹی ملتے ہی بند ہو جاتا تھا ۔ پاکستانی عوام کو بتایا جاتا ہے کہ اکبر بگٹی بہت بڑے مجاہد تھے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ سوئی گیس کی رائلٹی بڑھانے کے لیے حکومت سے لڑ رہے تھے، اسی لڑائی میں جب ریاست مخالف سرگرمیاں حد سے زیادہ بڑھیں اور ریاست نے رد عمل دیا تو بگٹی صاحب مارے گئے ۔ گزشتہ دنوں لاہور میں عاصمہ جہانگیر کی یاد میں کانفرنس منعقد ہوئی ،جس سے خطاب کے دوران جب رانا ثنا اللہ نے کہا بلوچستان میں ریاست مخالف تحریک کے خلاف آپریشن جاری ہے تو ہال میں بیٹھی ایک خاتون اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ہال سے باہر نکل گئی ۔
پرویز رشید نے اپنی تقریر میں سوال اٹھایا کہ کہ بلوچستان میں شناختی کارڈ دیکھ کر پنجابی مزدور کیوں قتل کیے جاتے ہیں ؟تو جیسے شرکا کو سانپ سونگھ گیا ۔تقریب میں موجود ایک نوجوان نے جرمن سفیر سے سوال کرنے کی کوشش کی کہ ان کا ملک فلسطینیوں کے قتل عام اور نسل کشی کا سب سے بڑا حمایتی کیوں ہے تو سوال کرنے پر نوجوان کو ساتھیوں سمیت ہال سے باہر نکال دیا گیا ۔ عاصمہ جہانگیر کی ساری زندگی جن سرداروں اور نوابوں کے خلاف لڑتے گزری ،اس کی یاد میں ہونے والی کانفرنس کے سٹیج پر سردار محمود خان اچکزئی بڑے طمطراق سے براجمان تھے ۔ ایس ایم ظفر جو تمام عمر آمروں کی وکالت کرتے رہے، ان کا بیٹا علی ظفر سپیکرز میں شامل تھا ،کسی سردار یا نواب کی تقریر کا بائیکاٹ نہیں کیا گیا لیکن ایک مڈل کلاس سیاستدان کوچپ کرادیاگیا۔ ورکر کلاس سے تعلق رکھنے والے پرویز رشید نے پوچھا کہ بلوچستان میں پنجابیوں کا خون پانی کی طرح کیوں بہایا جاتا ہے ، تو ان کے سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ بی ایل اے کے انسانی حقوق دنیا میں سب سے زیادہ ہیں اور فلسطین کے بچوں کا خون پانی سے بھی سستا ہے ۔
نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

طارق وسیم پاکستان بالخصوص لاہور کی صحافت میں جانا پہچانا نام ہے دو دہائی قبل انگریزی جرنلزم سے کیریئر کا آغاز کرنے والے طارق وسیم نے براڈ کاسٹ جرنلزم میں بطور رپورٹر،اینکر اور نیوز ڈیپارٹمنٹ میں اپنی منفرد پہچان بنائی ہے۔