اسلام آباد: احتساب عدالت نے نیو یارک پراپرٹی کیس کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے آصف زرداری کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کر لی۔
عدالت نے درخواست خارج کرنے کی نیب کی استدعا مسترد کر دی۔عدالتی حکم کے مطابق انکوائری کی حد تک نیب آصف زرداری کو گرفتار نہیں کر سکے گا، دوران انکوائری گرفتاری کیلئے احتساب عدالت رجوع کرنا ہو گا۔
خیال رہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری کی نیویارک پراپرٹی کیس میں درخواست ضمانت پر سماعت کرتے ہوئے احتساب عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا , عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے آصف زرداری کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کر لی ۔
قبل ازیں اسلام آباد کی احتساب عدالت میں سابق صدر آصف علی زرداری نیویارک پراپرٹی کیس میں درخواست ضمانت پر سماعت کیلئے اپنے وکیل فاروق ایچ نائیک کے ہمراہ پیش احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے دوران سابق صدر کے وکیل نے کہا کہ نیب نیویارک پراپرٹی کیس کی تحقیقات کر رہا ہے، نیب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ابھی تک وارنٹ گرفتاری جاری نہیں کیے۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ چیئرمین نیب کو کسی کو بھی گرفتار کروانے کا اختیار ہے وہ انکوائری کے کسی بھی مرحلے پر گرفتاری کے وارنٹ جاری کرسکتے ہیں۔
نیب پراسیکیوٹر نے سابق صدر کی ضمانت قبل ازگرفتاری کی درخواست کی مخالفت کی اور کہا کہ نیب نے اپنے بیان میں وضاحت کردی ہے، لہذا استدعا ہے کہ احتساب عدالت آصف زرداری کی درخواست کو مسترد کرے۔
فاروق ایچ نائیک نے سوال کیا کہ نیب کا گرفتاری کا اگر کوئی ارادہ نہیں ہے تو بتائیں، جب انکوائری چل رہی ہے تو نیب واضح کیوں نہیں کرتا۔
زرداری کے وکیل نے کہا کہ ہمیں عدالت میں آنے کا کوئی شوق نہیں ہے، کسی کوخطرہ ہوتا ہے تو خود کو محفوظ رکھنے کیلئے عدالت کا رخ کرتا ہے۔
سماعت کے دوران سابق صدر آصف زرداری کی میڈیکل رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی گئی، وکیل فاروق نائیک نے استدعا کی کہ احتساب عدالت آصف زرداری کی مستقل ضمانت قبل ازگرفتاری کی درخواست منظور کرے۔
دوسری جانب نیب پراسیکیوٹر نے اس پر کہا کہ نیب نے وارنٹ گرفتاری جاری نہیں کیے ، درخواست صمانت کو مسترد کیا جائے۔
تاہم عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد آصف زرداری کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کر لی۔