تہران : ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یورپ سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر وہ جوہری مذاکرات میں ایک اہم کردار ادا کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنی آزادی اور غیر جانبداری کو برقرار رکھنا ہوگا۔ فرانسیسی اخبار "لی موڈے" کو دیے گئے انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ اس غیر جانبداری کی علامت اسرائیلی جارحیت کی کھل کر مذمت کرنا ہے۔
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) سے دستبردار ہونے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ عباس عراقچی نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کے بارے میں کہا کہ یہ مذاکرات مختلف دوست یا ثالثی ممالک کے ذریعے ہو رہے ہیں اور ان کی شکل پہلے طے شدہ شرائط کے مطابق تبدیل ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب، ایرانی پارلیمنٹ نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے ساتھ تعاون معطل کرنے کی حالیہ قرارداد منظور کی ہے، جس سے اس ایجنسی کی نگرانی متاثر ہونے کا امکان ہے۔ یہ پیش رفت خاص طور پر اس پس منظر میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور اسرائیل نے نطنز، فردو اور اصفہان میں ایران کی اہم یورینیم افزودگی تنصیبات پر بمباری کی تھی۔
اب تک ایران یا IAEA کی طرف سے ان حملوں سے ہونے والے نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں، اور تقریباً 9 ٹن افزودہ یورینیم کی موجودہ حالت بھی غیر یقینی ہے، خاص طور پر وہ 400 کلوگرام یورینیم جو 60 فیصد افزودہ ہے۔