کراچی : ڈیفنس فیز 6 کے ایک فلیٹ سے چند روز قبل مردہ حالت میں ملنے والی معروف اداکارہ حمیرا اصغر کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آ گئی ہے، جس میں انکشاف ہوا ہے کہ ان کی موت کو 8 سے 10 ماہ گزر چکے ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق، ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاش انتہائی حد تک گل سڑ چکی تھی اور ڈی کمپوزیشن کے آخری مرحلے میں تھی۔ مرحومہ کے جسم کے نچلے حصے کا گوشت مکمل طور پر ختم ہو چکا تھا جب کہ لاش پر تھوڑے کیڑے بھی پائے گئے۔ رپورٹ کے مطابق، حمیرا کی کسی بھی ہڈی میں فریکچر یا زخم کے آثار نہیں ملے۔
حکام کے مطابق، اداکارہ کے بال اور شرٹ کے ٹکڑے کیمیائی تجزیے کے لیے لیبارٹری بھیج دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی زہریلے مادے یا ممکنہ جرم کی مزید جانچ کی جا سکے۔ تاہم، لاش کی حالت کے پیش نظر زیادتی یا تشدد کا تعین کرنا فی الحال ممکن نہیں ہے۔
یاد رہے کہ اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش 8 جولائی کو کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 6، اتحاد کمرشل میں ایک فلیٹ سے اس وقت ملی جب مالک مکان نے کرایہ نہ ملنے پر عدالت سے رجوع کیا۔ عدالتی بیلف جب فلیٹ کا دروازہ نہ کھلنے پر زبردستی اندر داخل ہوا تو وہاں سے اداکارہ کی بہت پرانی لاش برآمد ہوئی۔
لاش کو قانونی کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کر دیا گیا ہے، جو اسے لاہور لے گئے ہیں۔ حمیرا اصغر کی تدفین لاہور میں کی جائے گی۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور پولیس مزید شواہد کا انتظار کر رہی ہے تاکہ موت کی اصل وجہ اور ممکنہ مجرمانہ پہلوؤں کا تعین کیا جا سکے۔