لراچی: پاکستانی اداکارہ اور میزبان عائشہ عمر نے کراچی کو دنیا کے کم رہائش پذیر شہروں میں شامل کیے جانے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس شہر میں رہنے والے افراد اپنی مشکلات کے باوجود قابلِ تعریف ہیں اور انہیں کسی اعزاز کا حق دار سمجھا جانا چاہیے۔
عائشہ عمر کا کہنا تھا کہ کراچی کے شہری جن حالات کا روزانہ سامنا کرتے ہیں، ان میں زندگی گزارنا کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں۔ ان کا یہ بیان برطانوی ادارے دی اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ (EIU) کی جانب سے جاری کردہ گلوبل لائیویبلٹی انڈیکس 2026 کے بعد سامنے آیا، جس میں کراچی کو دنیا کے رہنے کے لیے چوتھا کم موزوں شہر قرار دیا گیا۔
اداکارہ نے اس رپورٹ سے متعلق ایک پوسٹ اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کی درجہ بندی ان کے لیے کوئی حیران کن بات نہیں۔
کراچی کے شہریوں کو سراہتے ہوئے عائشہ عمر نے کہا کہ یہاں کے لوگ خراب اور آلودہ سڑکوں، طویل ٹریفک جام، بجلی اور گیس کی قلت، جبکہ جرائم اور ڈکیتی کے خدشات کے باوجود اپنی زندگی جاری رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشکلات کے باوجود شہری محنت کرتے ہیں، ٹیکس ادا کرتے ہیں اور ملکی معیشت میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسے حالات میں روزمرہ زندگی کو کامیابی سے گزارنا بذاتِ خود ایک بڑی جدوجہد اور قابلِ قدر عمل ہے۔
عائشہ عمر اس سے قبل بھی سماجی اور عوامی معاملات پر اپنی آواز بلند کرتی رہی ہیں۔ حال ہی میں وہ خواتین سے متعلق بی بی سی کی ایک رپورٹ کا حصہ بنی تھیں، جس میں انہوں نے مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کمپنیوں پر زور دیا تھا کہ خواتین کی تصاویر کے غلط استعمال اور آن لائن ہراسانی کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اداکاری کے ساتھ سماجی سرگرمیوں میں بھی حصہ لینے والی عائشہ عمر ایک فلاحی ادارے کی خیرسگالی سفیر ہیں جو پاکستان میں محروم بچوں کی تعلیم کے لیے کام کرتا ہے۔ ان کی حالیہ فلم "میرا لیاری" بھی سماجی مسائل، نوجوانوں کو درپیش مشکلات، جرائم اور غربت جیسے موضوعات پر مبنی تھی، جس میں بہتر مستقبل اور امید کا پیغام دیا گیا۔