اسلام آباد: وفاقی بجٹ 2025-26 کے بعد وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس اس وقت تنازع کا شکار ہو گئی جب صحافیوں نے احتجاجاً کانفرنس کا بائیکاٹ کرتے ہوئے واک آؤٹ کر دیا۔
پریس کانفرنس کے آغاز پر ہی صحافیوں نے احتجاج کیا کہ رواں سال فنانس بل پر کوئی ٹیکنیکل بریفنگ نہیں دی گئی، جو کہ گزشتہ 20 سال سے ایک روایت رہی ہے۔ صحافیوں کا کہنا تھا کہ بجٹ کی تفصیلات عوام سے کیوں چھپائی جا رہی ہیں اور انہیں اس بارے میں واضح معلومات کیوں نہیں دی گئیں۔
صحافیوں کے احتجاج اور واک آؤٹ پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب حیرت زدہ رہ گئے اور پریس کانفرنس کچھ دیر کے لیے تعطل کا شکار ہو گئی۔ بعد ازاں وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے مداخلت کرتے ہوئے صحافیوں سے بات چیت کی اور انہیں منا کر واپس لایا۔ صحافیوں کی واپسی کے بعد وزیر خزانہ نے پریس کانفرنس کا دوبارہ آغاز کیا۔
صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ فنانس بل جیسے اہم دستاویز پر مکمل شفافیت اور عوام کو آگاہی دینا جمہوری تقاضا ہے، اور اگر حکومت اس میں ناکام رہتی ہے تو میڈیا کا ردعمل ایک فطری عمل ہوگا۔