اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے حکومت کی زراعت مخالف پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ بجٹ کسانوں کے مسائل کو نظر انداز کرنے والا ہے اور ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کو توڑ رہا ہے۔
پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے کسانوں کے لیے کوئی مؤثر پیکج پیش نہیں کیا، کھاد، ٹریکٹر اور دیگر ضروری سہولیات فراہم نہیں کی گئیں، جس کی وجہ سے زراعت کی ترقی میں واضح کمی آئی ہے۔ کپاس کی پیداوار 34 فیصد، مکئی 14 فیصد اور آم کی پیداوار 75 فیصد کم ہو چکی ہے جبکہ گندم کی پیداوار بھی متاثر ہوئی ہے۔
شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ حکومت اقتصادی سروے میں حقائق چھپا رہی ہے اور کسانوں کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لینڈ مافیا کو فروغ دیا جا رہا ہے جبکہ کسانوں کی حالت زار خراب ہو رہی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ زراعت کی گروتھ شرح 6.2 فیصد سے گھٹ کر 0.5 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ ٹریکٹر کی قیمت 50 لاکھ روپے سے تجاوز کر چکی ہے جس سے عام کسان اسے خریدنے کے قابل نہیں رہا۔ پانی کی قلت اور نہروں کی صفائی کا فقدان بھی بحران کو بڑھا رہا ہے، اور اب تک سیڈ پالیسی بھی منظور نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ کسانوں کے لیے نہیں بلکہ کسان دشمن ہے اور اسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔