واشنگٹن / تہران: امریکا اور ایران کے درمیان جاری شدید فوجی ٹکراؤ کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران نے امن معاہدے کے لیے بہت زیادہ وقت ضائع کر دیا ہے اور اب اسے اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ دوسری جانب، تازہ ترین اطلاعات کے مطابق امریکی دباؤ اور شدید بمباری کے بعد اعلیٰ ایرانی حکام نے صدر ٹرمپ سے براہِ راست رابطہ کر کے حملے روکنے کی درخواست کی ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایران کے جوابی حملوں کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا "وہ معاہدے کے لیے بہت وقت لے چکے ہیں، اب انہیں قیمت چکانی ہوگی۔ ہم ان پر مزید اور انتہائی شدید حملے کرنے جا رہے ہیں، اگر ضرورت پڑی تو ایران کے بجلی گھروں (Power Facilities) کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ امریکی حملوں کی شدت کے بعد اعلیٰ ایرانی حکام نے ان سے براہِ راست فون پر رابطہ کیا ہے اور درخواست کی ہے کہ امریکا اپنی بمباری روک دے۔
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے صدر ٹرمپ کے جارحانہ عزائم کی تائید کرتے ہوئے پریس کانفرنس میں کہا کہ امریکا خطے اور آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھالے ہوئے ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ "اگر ہمیں بموں کے ذریعے مذاکرات کرنے پڑے، تو ہم بموں کے ذریعے ہی مذاکرات کریں گے"۔ انہوں نے تصدیق کی کہ صدر ٹرمپ کی ہدایت پر ایرانی حدود میں تہران سے محض 40 میل کے فاصلے تک 49 ٹوما ہاک میزائل داغے گئے ہیں جنہوں نے ایران کے ایئر ڈیفنس اور راڈار سسٹمز کو تباہ کر دیا ہے۔