تحریر: طارق وسیم
وفاقی بجٹ کل پیش کیا جائے گا ،حکومت نے انتظامات کو حتمی شکل دے دی ہے ،پیپلز پارٹی نے حکومت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ بجٹ منظور کرانے میں مکمل مدد کریں گے ، بجٹ پہلے5 جون کو پیش کیا جانا تھا جو گلگت بلتستان الیکشن کی وجہ سے ممکن نہ ہو سکا ، اس کے بعد 10 جون کی تاریخ سامنے آئی لیکن رئیل سٹیٹ سیکٹر کو ٹیکس ریلیف اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا ایشو کھڑا ہو گیا ۔اول الذکر پر آئی ایم ایف راضی نہیں تھا جبکہ موخر الذکر پر پیپلز پارٹی کے تحفظات تھے یوں بجٹ 10 جون کو بھی پیش نہ ہو سکا ۔ اس لیے کل شام پانچ بجے بجٹ پیش کر دیا جائے گا ۔کفایت شعاری مہم کے تحت وزارت داخلہ اور دفاع کے علاوہ تمام وزارتوں میں نئے منصوبوں پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں پچاس فیصد اضافے کی پیپلز پارٹی کی تجویز پر حکومت نے انہیں بتایا ہے کہ اگر 15 فیصد سے زیادہ اضافہ کیا گیا تو اس میں کیا مشکلات آ سکتی ہیں ۔
پیپلز پارٹی نے سرمایہ دارانہ نظام کا ہر دور میں تحفظ کیا ہے،یہی وجہ ہے سرمایہ دارانہ سوچ کے مطابق ملازمین کو ریلیف دین کی مختلف تجاویز پیش کرتی رہتی ہے، جن کا جدید دور سے کوئی تعلق نہیں ۔دوسری جانب نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار ہیں جو سرمایہ دارانہ نظام کے نمائندے ہیں۔ اسحاق ڈار کا سیدھا فارمولہ ہے کام کرنے والوں کو ریلیف ملنا چاہیے اور کام چوروں کو سزا ۔ادھرآئی ایم ایف نے ریئل سٹیٹ سیکٹر کو مکمل فری ہینڈ دینے کی مخالفت کرتے ہوئے مزید ٹیکسز لگانے کا مطالبہ کیا ہے حکومت نے بجلی کی قیمتوں کے معاملے میں آئی ایم ایف کو بھی اعتماد میں لیا ہے ،بتایا جارہا ہے کہ گیس کی قیمتیں نہیں بڑھیں گی۔ آئی فون بنانے والی کمپنی ایپل نے حکومت پاکستان سے درخواست کی ہے کہ نان پی ٹی اے اور جے وی ٹیلی فونز کو کسی ضابطہ اخلاق میں لائیں، بصورت دیگر وہ اپنی سیٹنگز اپ ڈیٹ کر دیں گے اور ایسے تما م موبائل فون ناکارہ ہو جائیں گے،یہی وجہ ہے کہ اس وقت کوئی بھی نان پی ٹی اے اور جے وی آئی فونز کوکم قیمت کے باوجود بھی خریدنے کو تیار نہیں ،جہاں تک بات ہے الیکٹرک وہیکلز کی تو ان پر ٹیکس کم ہونے کا امکان ہے ۔
حکومت چاہتی ہے کہ ایک سال میں سڑکوں پر چلنی والی گاڑیوں میں سے کم ازکم 20 فیصدای وی ہوں ،اس سلسلے میں شہریوں کو اس جانب مائل کیا جا رہا ہے ،طلبہ کے لیے وزیر اعظم لیپ ٹاپ سکیم کو بڑھایا جائے گا ،، ففتھ جنریشن انٹرنیٹ یعنی 5 جی کو ملک بھر میں پھیلانے کے لیے ایک معقول رقم بھی مختص کی جائے گی ۔پاکستان 2016 میں 5 جی لانچ کرنے والا تھا، یہ وہ وقت تھا جب ایپل نے اسلام آباد میں ایشیا کا پہلا ایپل سٹور شروع کرنے کا اعلان بھی کیا تھا، لیکن ایپل نے اپنا سٹور نئی دلی میں کھول لیا ۔
غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں کام کرنے کی جانب راغب کرنا اتنا آسان نہیں ہے ، کیونکہ اس خطے کی اکثریت ،ایک جگہ سے مال لے کر دوسری جگہ فروخت کرنے اور اپنا کمیشن کھرا کرنے کو ہی کاروبار سمجھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق موجودہ بجٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے بھی کچھ رقم مختص کیے جانے کا امکان ہے ۔ دفاع کے شعبے میں مزید رقم مختص کیے جانے کی تجویز ہے ۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کوئی ایسا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا جو براہ راست غریب یا متوط طبقے کو متاثر کرے البتہ ایسے لوگ جو ٹیکس دے سکتے ہیں اور نہیں دیتے ان پر ٹیکسز لگانے کے ساتھ ساتھ ان کی سرکوبی کےلیے ایف بی آر کے اختیارات میں اضافہ بھی متوقع ہے۔
نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

طارق وسیم پاکستان بالخصوص لاہور کی صحافت میں جانا پہچانا نام ہے دو دہائی قبل انگریزی جرنلزم سے کیریئر کا آغاز کرنے والے طارق وسیم نے براڈ کاسٹ جرنلزم میں بطور رپورٹر،اینکر اور نیوز ڈیپارٹمنٹ میں اپنی منفرد پہچان بنائی ہے۔