Get Alerts

حقوق کی آڑ میں بھارتی ایجنڈا؟ آزاد کشمیر حکومت انتشار پسندوں کے خلاف ڈٹ گئی

حقوق کی آڑ میں بھارتی ایجنڈا؟ آزاد کشمیر حکومت انتشار پسندوں کے خلاف ڈٹ گئی



مظفر آباد: آزاد کشمیر میں عوامی حقوق اور مہنگائی کے نعروں کے پیچھے چھپا مبینہ علیحدگی پسند ایجنڈا سامنے آنے پر ریاستی حکومت نے بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے خلاف ماضی میں واپس لیے گئے تمام مقدمات فوری طور پر بحال کر دیے ہیں۔ دوسری جانب، سیاسی محاذ پر سابق وزیر اعظم سردار تنویر الیاس نے کشیدگی کم کرنے کے لیے حکومت اور کمیٹی کے مابین ثالثی کی پیش کش کر دی ہے۔
آٹے، بجلی کی قیمتوں اور مہنگائی کے نام پر شروع ہونے والی اس تحریک کے بعض عناصر کا اصل ہدف اب کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ علیحدہ پاسپورٹ، الگ جھنڈے اور منفرد ریاستی شناخت جیسے مطالبات کے ذریعے بھارتی ایجنڈے کو تقویت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کمیٹی کے سرغنہ نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ "کشمیر کے لوگ اپنا جھنڈا، اپنی اسمبلی اور اپنا پاسپورٹ رکھیں گے اور یہی ہمارا خواب ہے"، جس سے تحریک کے اصل مقاصد پر سے نقاب الٹ گیا ہے۔
معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں اور انتشار پسند بیانیے پر آزاد کشمیر حکومت نے سخت قانونی راستہ اختیار کر لیا ہے۔ محکمہ قانون، انصاف، پارلیمانی امور اور انسانی حقوق کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ نوٹیفکیشن کے مطابق، ماضی میں کمیٹی کے احتجاج اور مظاہروں کے دوران قائم ہونے والے وہ تمام مقدمات جو پہلے واپس لے لیے گئے تھے، انہیں اب دوبارہ بحال کر کے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ریاست میں بڑھتے ہوئے سیاسی و امن و امان کے بحران کو ٹالنے کے لیے سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس نے حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ  آزاد کشمیر میں کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے تمام فریقین کو فوری طور پر مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہوگا۔ اس پیچیدہ تنازع کا حل صرف بات چیت اور افہام و تفہیم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ آزاد کشمیر کے عوام نے ہمیشہ پاکستان اور ملکی مسلح افواج کے ساتھ اپنی لازوال محبت کا ثبوت دیا ہے اور وہ اب بھی ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں۔

ٹیگز: