اسلام آباد: اسلام آباد کی سڑکوں پر کئی گھنٹے دہشت پھیلانے والے ملزم سکندر کو سزا سنا دی گئی۔ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے ملزم سکندر کو مجموعی طور پر 16 سال قید کا حکم سنا دیا۔ عدالت نے ملزم کی اہلیہ کنول کو باعزت بری کرنے کا حکم دیا۔ سکندر پر ایک لاکھ 10 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کر دیا گیا اور جرمانے کی عدم ادائیگی پر مزید 6 ماہ قید بھگتنا ہو گی۔
یاد رہے 16 اگست 2013 میں سکندر حیات نے اپنی بیوی اور دو بچوں سمیت پارلیمنٹ ہاؤس جانے کی کوشش کی اور روکنے پر وہاں پر موجود پولیس اہلکار پر فائرنگ کر دی تھی۔

اس واقعے کے بعد ملزم نے فرار ہونے کی کوشش کی تاہم پولیس نے گاڑی کو روک لیا جس پر اس شخص نے اپنی گاڑی شہر کی مصروف شاہراہ جناح ایونیو پر کھڑی کر دی اور کئی گھنٹے تک اپنے اہلخانہ سمیت گاڑی میں بیٹھا رہا اور دو خودکار ہتھیاروں سے وقفے وقفے سے ہوائی فائرنگ بھی کرتا رہا۔

اس دوران اعلیٰ حکام بھی موقع پر پہنچے اور اس سے بارہا مذاکرات کیے تاہم وہ ہتھیار پھینکنے سے انکار کرتا رہا اور اپنی اہلیہ کے ذریعے اپنے مطالبات حکام تک پہنچاتا رہا۔ تاہم زمرد خان نے سکندر کے بچوں سے ملاقات کی خواہش کی اور قریب جانے پر انہوں نے سکندر کو پکڑنے کی کوشش کی۔ اس پر سکندر نے گولی چلا دی تاہم قریب موجود کمانڈوز نے فوری طور پر اسے گولیاں مار کر زخمی کر دیا جس کے بعد اسے حراست میں لے لیا گیا تھا۔
نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں