ملتان، مظفرگڑھ، بہاولنگر، رحیم یار خان: پنجاب کے مختلف اضلاع میں حالیہ سیلاب کے باعث نہ صرف انسانی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں بلکہ زرعی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کشتیوں کے دو الگ الگ حادثات پیش آئے، جبکہ کئی علاقوں میں دریاؤں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو چکی ہے۔
تحصیل جلالپور پیر والا (ضلع ملتان) میں سیلاب متاثرین کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے والی کشتی اوباڑو کے قریب جنوبی قائد ملت سکول کے پاس الٹ گئی۔ کشتی میں 19 افراد سوار تھے جن میں سے 18 کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا، تاہم ایک شخص اب بھی لاپتہ ہے جس کی تلاش جاری ہے۔
اسی روز تحصیل علی پور (ضلع مظفرگڑھ) کے علاقے لتی ماڑی میں بھی کشتی الٹنے کا واقعہ پیش آیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق کشتی میں 10 سے زائد افراد سوار تھے، جب ایک شخص نے کشتی میں لٹکنے کی کوشش کی تو کشتی توازن کھو بیٹھی اور الٹ گئی۔ خوش قسمتی سے تمام افراد بحفاظت بچا لیے گئے۔
بستی کلر والی (ضلع بہاولنگر) کے مقام پر دریائے ستلج میں 12 سالہ بچہ ڈوب کر جاں بحق ہوگیا۔ اہل علاقہ اور ریسکیو ٹیموں نے کئی گھنٹوں کی کوشش کے بعد لاش کو تلاش کیا۔
تحصیل لیاقت پور نوروالا (ضلع رحیم یار خان) میں کئی دہائیوں بعد خشک علاقہ دوبارہ دریائے چناب کے پانی میں ڈوب گیا۔ اچانک صورتحال کے باعث علاقہ مکینوں کا ہنگامی انخلا کیا گیا اور ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
ہیڈ پنجند (دریائے چناب): پانی کی سطح 6 لاکھ 68 ہزار کیوسک سے تجاوز کر گئی، جو سمکہ چاچڑاں کی طرف بڑھ رہی ہے۔تونسہ بیراج (دریائے سندھ): 2 لاکھ کیوسک کے قریب سیلابی ریلا پیش قدمی کر رہا ہے۔تریموں بیراج: پانی کی سطح میں معمولی کمی، مگر ریلا ابھی بھی سندھ کی جانب رواں دواں ہے۔
گنڈا سنگھ والا (دریائے ستلج): پانی کی سطح 1 لاکھ 82 ہزار کیوسک سے زائد ہے، جبکہ بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کا سلسلہ جاری ہے۔
انتظامیہ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشنز جاری ہیں اور انسانی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے اور انہیں بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
موجودہ صورتحال ایک قومی ہنگامی حالت کی عکاسی کر رہی ہے، جہاں صرف فوری نہیں بلکہ طویل المدتی اقدامات بھی ناگزیر ہو چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو مستقبل میں ایسے قدرتی بحرانوں سے بچنے کے لیے مؤثر فلڈ مینجمنٹ پالیسی اپنانی ہوگی۔