Get Alerts

اسلام آباد: سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن کا شدید احتجاج، شیری رحمان کی تقریر کے دوران تلخ جملے اور نعرے بازی

اسلام آباد: سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن کا شدید احتجاج، شیری رحمان کی تقریر کے دوران تلخ جملے اور نعرے بازی

اسلام آباد: سینیٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج کیا اور چیئرمین کے ڈائس کے قریب جا کر نعرے بازی کی۔ اپوزیشن نے نامنظور، نااہلی نامنظور کے نعرے لگائے اور حکومتی ارکان کے ساتھ تلخ کلامی بھی ہوئی۔

سینیٹر شیری رحمان نے اپوزیشن کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے سی پیک منصوبے کو نقصان پہنچایا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ چینی صدر کے دورے کے موقع پر پی ٹی آئی نے ڈی چوک پر احتجاج کیا اور ناچ گانا کیا تھا۔ شیری رحمان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے ارکان میں برداشت نہیں اور ہمیں کوئی خارجہ پالیسی نہ سکھائی جائے۔

انہوں نے پرویز مشرف کے ریفرنڈم میں پی ٹی آئی کی حمایت کا حوالہ دیا اور کہا کہ پی ٹی آئی کے دور میں سختیاں برداشت کی گئیں۔ شیری رحمان نے مریم نواز کی گرفتاری کے حوالے سے بھی بات کی اور فریال تالپور کی گرفتاری کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کے دور میں سیاسی نااہلی کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

سینیٹر نے سابق صدر آصف زرداری کے بارے میں کہاکہ  انہوں نے 12 سال قید کاٹنے کے باوجود کبھی کوئی تماشہ نہیں کیا، بلکہ پولیس اہلکاروں کو چائے پلائی۔ انہوں نے بانی آئین شہید ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت کبھی 9 مئی یا چھاؤنی پر حملہ نہیں ہوا۔

شیری رحمان نے اپوزیشن کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن جمہوریت کا حسن ہے اور گالم گلوچ نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کے سربراہ نے باہر جا کر کہا تھا کہ وہ اپوزیشن ارکان کو برف پر لٹائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کے دور میں انہیں مسنگ پرسن بنایا گیا اور پی ٹی آئی میں عدم برداشت کی وجہ سے ان کے صفحات بھی پھاڑ دیے گئے۔