Get Alerts

افغان طالبان کے خیبر پختونخوا میں بڑھتے اثرات، وزیراعلیٰ کے رویے پر سوالات

افغان طالبان کے خیبر پختونخوا میں بڑھتے اثرات، وزیراعلیٰ کے رویے پر سوالات

پشاور: خیبر پختونخوا میں افغان طالبان کے بڑھتے ہوئے اثرات نے عوام اور سیکورٹی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ہلاک کیے گئے دہشتگردوں میں 60 سے 70 فیصد افغان طالبان سے وابستہ تھے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ صوبے میں دہشتگرد حملوں کی اکثریت افغانستان سے منسلک گروہوں کی جانب سے ہو رہی ہے۔

عوام روزانہ افغان دہشتگردوں کے حملوں سے جانی و مالی نقصان اٹھا رہے ہیں، مگر صوبائی وزیر اعلیٰ کے رویے پر تنقید کی جا رہی ہے کہ وہ دہشتگردانہ بیانیے کو دہرا رہے ہیں اور دہشتگردوں کے خلاف مؤثر کارروائی میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔ خاص طور پر سہیل آفریدی کی کارروائیوں کو روکنے کی پالیسی برقرار ہے۔

سیکورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں دہشتگردی کے خلاف قومی بیانیے میں ابہام پیدا کرنے کی کوششیں خطرناک ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، ٹھوس شواہد موجود ہونے کے باوجود وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا وفاق سے ثبوت طلب کر رہے ہیں، جس پر عوام اور ماہرین تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔

ٹیگز: