Get Alerts

یومِ شہداء کشمیر ۔۔۔ ڈوگرہ مظالم سے بھارتی جبر تک قربانیوں کی روشن تاریخ

یومِ شہداء کشمیر ۔۔۔ ڈوگرہ مظالم سے بھارتی جبر تک قربانیوں کی روشن تاریخ
یومِ شہداء کشمیر ۔۔۔ ڈوگرہ مظالم سے بھارتی جبر تک قربانیوں کی روشن تاریخ
یومِ شہداء کشمیر ۔۔۔ ڈوگرہ مظالم سے بھارتی جبر تک قربانیوں کی روشن تاریخ
یومِ شہداء کشمیر ۔۔۔ ڈوگرہ مظالم سے بھارتی جبر تک قربانیوں کی روشن تاریخ

سری نگر:13 جولائی کو دنیا بھر میں یومِ شہداء کشمیر عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے۔ یہ دن 1931 میں سری نگر جیل کے باہر اذان کی تکمیل کے دوران شہید ہونے والے 22 کشمیریوں کی یاد دلاتا ہے، جنہوں نے ڈوگرہ راج کے جبر کے خلاف اپنی جانیں قربان کیں۔

یہ دن کشمیری عوام کی طویل جدوجہدِ آزادی کی علامت ہے، جو آج بھی بھارتی ریاستی جبر کے خلاف جاری ہے۔ 5 اگست 2019 کے بعد بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 اور 35A کی منسوخی کے بعد کشمیریوں کی سیاسی شناخت اور حقِ خودارادیت کو منظم طریقے سے پامال کیا جا رہا ہے۔

بھارتی افواج کو دیے گئے کالے قوانین جیسے AFSPA اور PSA نے مقبوضہ جموں و کشمیر کو عسکری قید خانے میں تبدیل کر دیا ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں ان پالیسیوں کی  مذمت کی گئی ہے۔

پاکستان ہر سطح پر کشمیری عوام کے جائز حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ کشمیری عوام پر جاری مظالم کا نوٹس لے۔بھارت اسی تسلسل میں ظلم جاری رکھے ہوئے ہے.

5 اگست 2019 کا دن کشمیریوں کے لیے ایک اور سیاہ باب ہے، اس روز ان سے  ووٹ کا حق حاصل کرلیاگیا، آبادی کا تناسب بگاڑا گیا، اور ہر اختلاف کو طاقت سے دبایا گیا۔

لیکن کشمیری عوام نے نہ 1931 میں جھکنے کا سوچا، نہ آج سوچتے ہیں۔ ان کے جذبے کو نہ برفانی طوفان توڑ سکے، نہ گولیاں۔ یومِ شہداء کشمیر ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ غلامی سے آزادی کا سفر قربانی مانگتا ہے  اور کشمیری اس سفر پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

ٹیگز: