واشنگٹن: عالمی بینک نے اپنی پالیسیوں میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے جوہری توانائی منصوبوں کی فنانسنگ پر 2013 سے عائد پابندی ختم کر دی ہے۔ یہ فیصلہ ترقی پذیر ممالک میں توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
عالمی بینک کے صدر اجے بانگا نے ایک ای میل کے ذریعے عملے کو آگاہ کیا کہ نئی توانائی پالیسی بورڈ کی منظوری سے منظور کی گئی ہے، جس کا مقصد بجلی کی پیداوار میں پائیدار اور موثر طریقے اپنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بینک اب اقوام متحدہ کی جوہری ایجنسی IAEA کے ساتھ مل کر کام کرے گا تاکہ جوہری توانائی کے منصوبے محفوظ اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ہوں۔
اجے بانگا نے بتایا کہ ترقی پذیر ممالک میں بجلی کی طلب 2035 تک دوگنی سے بھی زیادہ ہو جائے گی، اور اس ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہر سال توانائی کے شعبے میں 630 ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی، جو اس وقت کے 280 ارب ڈالر کے مقابلے میں دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی بینک نہ صرف نئے منصوبوں میں معاونت کرے گا بلکہ موجودہ جوہری ری ایکٹرز کی عمر بڑھانے اور بجلی کے گرڈ سسٹمز کو بہتر بنانے میں بھی مدد فراہم کرے گا۔
جہاں جوہری توانائی پر بینک کے بورڈ میں اتفاقِ رائے پایا گیا، وہیں اپ اسٹریم قدرتی گیس منصوبوں پر مکمل اتفاق نہیں ہو سکا۔ جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے گیس منصوبوں پر محتاط رویہ اختیار کیا ہے، تاہم غریب ممالک میں کچھ گیس منصوبے اب بھی غور کے مراحل میں ہیں۔
یاد رہے کہ عالمی بینک نے 2013 میں جوہری توانائی کی فنانسنگ بند کی تھی، اور 2017 میں اعلان کیا تھا کہ وہ 2019 کے بعد اپ اسٹریم تیل و گیس منصوبوں میں سرمایہ کاری نہیں کرے گا، لیکن اب پالیسی میں نرمی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔