اسلام آباد: پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پاک افغان سرحدی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ دہشت گرد عناصر پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے طالبان کی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ سرحد پر بلااشتعال فائرنگ اور اشتعال انگیزی کی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کا ردعمل مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور افغان شہریوں کی جانوں کی حفاظت کے لئے ہر ممکن احتیاطی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں۔ "ہم اپنے دفاع میں جوابی کارروائیاں کر رہے ہیں، لیکن ہمارا مقصد افغان عوام کو نقصان پہنچانا نہیں ہے۔ ہماری کارروائیاں صرف ان دہشت گرد عناصر کے خلاف ہیں جو پاکستان کی سرحد پر تشویش کا باعث بنے ہیں"، وزیر خارجہ نے کہا۔
پاکستان کے وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ "دہشت گرد عناصر، جنہیں بعض حلقے بھارتی مالی معاونت حاصل ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، پاک افغان تعلقات کو خراب کرنے کی سازش میں مصروف ہیں"۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان اپنی خود مختاری اور عوام کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور امید کرتے ہیں کہ طالبان حکومت دہشت گرد عناصر کے خلاف ٹھوس اقدامات کرے گی۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق حالیہ افغان جارحیت اور پاکستان کے جوابی ردعمل کو دونوں ممالک کے عوام کے درمیان جنگ سمجھنے کی ضرورت نہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ جارحیت افغان عبوری حکومت، طالبان اورخوارج کی جانب سے مسلط کی گئی ہے، جنہیں ممکنہ طور پر بھارتی مالی معاونت بھی حاصل ہو سکتی ہے۔
پاکستان کی وزارت خارجہ نے اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد افغان عوام کو نشانہ بنانا نہیں، بلکہ بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کرنا ہے۔